خطبات محمود (جلد 9) — Page 327
327 اب پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔چونکہ یہ شہر بہت ہی پرانا شہر ہے اور قدیم سے ہی اس کے ساتھ قوموں کے تعلقات رہے ہیں اور خاص کر موسویت۔عیسویت اور محمدیت کے اس سے تعلق رہے ہیں۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان اقوام اور ان مذاہب کے بعض مقامات مقدسہ بھی یہاں ہوں۔چنانچہ ان تینوں قوموں کے آثار یہاں پائے جاتے ہیں اور ان کے متبرک مقامات اس جگہ موجود ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو پرانے مذہبی واقعات کے ساتھ وابستگی ہے۔آج تک باوجود بڑے بڑے انقلابات کے اور باوجود ایک لمبا عرصہ گزرنے کے یہ یادگاریں بدستور قائم تھیں اور اس شہر کو جسے تین ہزار سال کے عرصہ میں وحشی سے وحشی لوگ اور جابر سے جابر بادشاہ بھی تباہ نہ کر سکے۔جس پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔مگر اس کی یادگاریں بدستور قائم رہیں۔امتداد زمانہ نے بھی اثر نہ کیا اور اس کے آثار محفوظ رہے۔اسے حال میں فرانسیسیوں نے تباہ کر دیا ہے۔فرانسیسی تو اس کا ظاہر ذریعہ بن گئے۔در حقیقت اس کے لئے مقدر ہو چکا تھا کہ وہ اس وقت تباہ ہو اور ایسے خطرناک طریقے پر تباہ ہو کہ جس کی مثال اس کی ساری عمر میں نہ پائی جائے۔اگر یہ بات پہلے ہی مقدر نہ ہو چکی ہوتی تو فرانسیسیوں کی کیا طاقت تھی کہ اس میں ایسی خطرناک بربادی پیدا کر دیتے اور پھر اگر ان قوموں اور ان بادشاہوں کو دیکھا جائے جو فرانس سے کہیں بڑھ چڑھ کر طاقت ور اور جائز تھے۔وہ بھی اسے تباہ نہ کر سکے۔تو یہ بات اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔پس فرانسیسی ظاہراً اس کی بربادی کی وجہ ہو گئے۔ورنہ یہ تو قضاء و قدر میں فیصلہ ہو چکا تھا کہ یہ شہر اس وقت تباہ ہو۔اس شہر کی تاریخی اہمیت بالکل ظاہر ہے اور ایسے شہر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک الہام "بلاء دمشق" ۳ - آج سے ایک مدت پہلے ہو چکا ہے۔جو ظاہر کرتا ہے کہ دمشق پر آفت اور مصیبت آنے والی ہے۔پچیس سال کے بعد اب ایسا واقعہ ہوا ہے کہ لوگ تعلیم کرتے ہیں کہ تین ہزار سالوں میں اس پر ایسی تباہی نہیں آئی۔جیسی کہ اس وقت آئی ہے۔حالانکہ اس پر بڑے بڑے انقلاب آئے اور بڑے بڑے جابر اور ظالم حکمرانوں کے ماتحت رہا۔انگریزی اخباروں نے بھی اس پر شور مچایا کہ وہ شہر جس میں بڑے بڑے آثار اور مقامات مقدسہ تھے۔آج مٹی کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔اس کی عظیم الشان عمارتیں گر گئی ہیں۔اس کے محلے کے محلے ویران ہو گئے ہیں۔مسجدیں ، گرجے اور معبد نیست و نابود ہو گئے ہیں اور وہ یاد گاریں جو ہزاروں