خطبات محمود (جلد 9) — Page 325
تھی۔ 325 پولوس جس پر عیسائی مذہب کا دارو مدار ہے۔ وہ اسی شہر کا تھا۔ انجیل سے پتہ چلتا ہے کہ دمشق کے متعلق مسیح کے شاگرد حشیاہ کو رویا میں خبر دی گئی تھی کہ دمشق میں جا کر ساؤل کو عیسائی بنا۔ اے چنانچہ اس نے ایسا ہی کہا۔ یہی ساؤل بعد میں پولوس ہو گیا اور اس نے تبلیغ کا کام اسی شہر سے شروع کیا۔ اور عیسویت کا چرچا یہاں پھیلایا۔ غرض موسوی زمانہ کے بعد عیسوی زمانہ میں بھی اس شہر کو خاص عظمت حاصل ہو گئی۔ پولوس نے دمشق میں اس کام کے لئے کھڑا ہو کر اس کی شان و شوکت کو بڑھا دیا اور اس کی تاریخی عظمت اور بھی زیادہ کر دی۔ پولوس کے زمانہ میں عیسائیت بہت کچھ ترقی پر پہنچ گئی تھی۔ پھر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں دمشق سب سے اہم گورنری تھی۔ رسول کریم الضرعين کے زمانہ سے میری مراد وہ زمانہ ہے۔ جو آپ کی بعثت سے شروع ہوا۔ تو زمانہ خلافت میں جب کہ اس کے ساتھ ساتھ اس اسلامی حکومت بھی تھی۔ حضرت عمر ا نے اس جگہ مستقل گورنری قائم کی اور امیر معاویہؓ کے بھائی کو سب سے پہلے یہاں کا گورنر بنا کے بھیجا۔ پھر ان کے بعد خود امیر معاویہ اللہ کو اور اس وقت سے لیکر امیر معاویہ کی وفات تک یہ شہر اس صوبہ کا اور پھر سارے رضي عالم اسلامی کا دارالخلافہ رہا۔ رضى امیر معاویہ اللہ اور امام حسین اللہ کے درمیان جب جنگ چھڑی اور جب امام حسین اللہ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر لیں۔ اور خلافت کے حقوق سے دست بردار ہو جائیں تو اس وقت بجائے مدینہ منورہ کے دمشق تمام عالم اسلامی کا دار الخلافہ بن گیا اور ایک عرصہ تک مستقل طور پر تمام عالم اسلامی کے لئے بطور دارالخلافہ رہا اور اس عرصہ میں مسلمانوں نے بہت سی فتوحات بھی حاصل کیں۔ ان دنوں میں مسلمان جو جو بھی علاقے فتح کرتے ۔ وہ اس دارالخلافہ کے ماتحت ہوتے تھے۔ حتی کہ بنو عباس نے بھی جب سپین وغیرہ کے علاقے فتح کئے۔ جو اپنی شان میں بغداد سے بھی بڑھ جاتے تھے تو وہ بھی اس کے ماتحت تھے۔ بغداد کو بغداد شریف کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اسے بغداد شریف اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمتہ ہوئے ہیں۔ مگر اسے بغداد شریف کہنے کی یہ وجہ نہیں۔ اسے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی وجہ سے بغداد شریف نہیں کہتے۔ بلکہ دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں کیونکہ بغداد عالم اسلامی کے لئے ایک وقت تک دارالخلافہ رہا۔