خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 323

323 والوں کو بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی باہر والوں کے لئے نمونہ بننے کی کوشش کریں اور اخراجات جلسہ میں کم از کم پچیس فیصد کے حساب سے حصہ لیں۔قادیان والوں کی حیثیت چونکہ میزبان کی ہے۔اس لئے میں انہیں یہ کہہ رہا ہوں۔اگر اس تحریک کے ہوتے ہی سب لوگ اپنا اپنا چندہ ادا کر دیں۔تو ایک مہینے کے اندر اندر سب سامان بہم پہنچ سکتے ہیں اور جلسے کے کارکن جلسے کا انتظام جلد اور سہولت کے ساتھ عمدہ طریق پر کر سکتے ہیں۔باہر کے لوگوں کے لئے تو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ ان میں سے جو ذی ثروت ہیں۔وہ اخراجات جلسہ میں حصہ لیں۔مگر قادیان کے لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ وہ میزبان ہیں اور میزبان پر به نسبت مہمان کے زیادہ حقوق ہوتے ہیں۔اس لئے انہیں چاہیے کہ سب کے مہمان نوازی میں شریک ہوں اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بچوں اور اپنی عورتوں کو بھی اس میں شامل کریں تاکہ وہ سب میزبان بنیں۔چندہ میں بھی ان کو شامل کریں اور مہمانوں کی خدمت کرنے میں بھی اور ان میں سے کوئی باہر نہ رہے۔بلکہ قادیان کا ہر فرد اس میں شامل ہو۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ قادیان کے دوست چار ہزار روپیہ جو آٹے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔جلدی ادا کر دیں تاکہ میزبانی کی حیثیت کو قائم رکھ سکیں۔میں اس دعا کے ساتھ یہ خطبہ ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ایمانوں میں ترقی دے۔اللہ کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا ہو اور قائم رہے۔اس کی محبت کے سامنے کوئی محبت باقی نہ رہے اور اس کی محبت میں کوئی کمی نہ پیدا ہو۔ہم عہد بیعت کو پورا کرنے والے بنیں اور جیسا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں بنانا چاہتے تھے بنیں۔ہم ان کاموں کو جاری رکھنے والے ہوں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جاری کئے اور ان کاموں کو کرنے والے بنیں جو آپ نے بتائے اور کئے۔ہم خائن نہ بنیں کہ کہیں تو کچھ اور اعمال کچھ اور ہوں بلکہ ہم دیانتدار بنیں تاکہ جو کہیں اسی کے مطابق کریں۔خدا تعالیٰ ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور ترقیات بخشے اور قربانیاں کرنے کے لئے انشراح صدر عطا فرمائے۔آمین الفضل ۱۲ نومبر ۱۹۲۵ء) امه بخاری و مسلم برادیت مشکوة کتاب جامع المناقب