خطبات محمود (جلد 9) — Page 27
27 اخلاص نه نہ ہو۔ چاہے وہ جسم کچھ چیز نہیں خواہ جسم کتنا ہی اعلیٰ کیوں : لیکن اگر روح نہیں تو وہ کچھ حرکت نہیں کرے گا۔ نہ ہو اسی طرح کسی نیکی اور عمل کا نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ ظاہری اعمال میں نیت اور کتنی ہی نمازیں پڑھے یا روزے رکھے اگر وہ اپنی عبادات میں اخلاص اور پوری توجہ کا عادی نہیں اس کے ایمان اور عرفان میں کوئی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ جہاں تم ظاہری اعمال بجا لاؤ وہاں دینی روح بھی پیدا کرو کیونکہ اس کے بغیر کوئی ترقی نہیں۔ اور در حقیقت ایماک نعبد و ایاک نستعین میں یہی دونوں باتیں بیان کی گئی ہیں کہ بندہ کہتا ہے کہ ظاہرہ اعمال تو میں بجا لاتا ہوں جو میرے بس میں ہیں اور باطنی طور پر تو استعانت فرما اور اس کے نیک نتائج پیدا کر۔ انسانی دعا کی عمدگی اور کامیابی کے لئے ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو نہایت لطیف ہے اور اس کے مقابلہ میں ان کی روح کثیف ہوتی ہے۔ مومن کوشش کرتا ہے کہ وہ کثافت دور ہو اور درخواست کرتا ہے کہ جو مجھ سے ہو سکتا تھا وہ میں نے کیا اب جو باقی ہے اس کے لئے حضور سے استعانت چاہتا ہوں اور پھر استعانت بھی تو ایک توجہ ہی ہے جو وہ اپنے عمل پر نیک نتیجہ کے مرتب ہونے کے لئے خدا کی طرف کرتا ہے۔ تب خدا کی طاقت اور اس کی طاقت مل کر نیک نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر یہ دونوں طاقتیں پیدا نہیں ہوتیں تو بندہ ا هدنا الصراط ا ط المستقيم صراط الذين ا ن انعمت علیہم بھی نہیں کہہ سکتا بلکہ اس کے کہنے کا حق تب ہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایاک نعبد کے مطابق ظاہری اعمال اخلاص کے ساتھ پہلے بجالائے ورنہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی ٹانگیں پھیلا کر پڑا رہے اور خواہش کرے کہ روٹی خود بخود اس کے منہ میں آجائے اس لئے جہاں تک وہ اختیار رکھتا ہے عمل میں اخلاص میں پوری کوشش کرے اور پھر خدا سے کہے کہ اب نیک نتائج تو پیدا کر۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے تمام اعمال میں اخلاص پیدا کریں اور ان میں ایسی روح ہو کہ جس کے بغیر اس کی رویت اور عرفان کا یقین حاصل نہیں ہوتا۔ امه نزبته المجالس مصنف شيخ عبد الرحمان الصفوری جلد ۲ ص ۱۵۳ سفینتہ الاولیاء دارا شکوه ص ۷۴ الفضل ۱۰ فروری ۱۹۲۵ء)