خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 304

304 37 تخلقوا با خلاق الله (فرموده ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : آج میں اپنے اس مضمون کو ترک کر کے جس کا سلسلہ گزشتہ چند جمعوں کے خطبات میں جاری تھا۔اپنی جماعت کے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ جس حد تک دنیا میں امن اور امان قائم رکھنے میں ممدو معاون ہو سکتے ہیں اور کوئی شے اس حد تک نہیں ہو سکتی۔اخلاق فاضلہ کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ اپنے حق سے زیادہ مانگا جائے اور نہ مانگنا ظلم نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ مثال کے طور پر فرمایا کرتے تھے کہ کسی کے ہاں مہمان آیا۔صاحب خانہ نے دل کھول کر اس کی خاطر و مدارت کی اور جب مہمان رخصت ہو کر روانہ ہونے لگا۔تو میزبان نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔میں آپ کی اس طرح خدمت نہیں کر سکا جیسی کہ کرنی چاہئے تھی۔جو کچھ میں نے کیا وہ آپ کی شان کے لائق نہ تھا۔اس لئے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف فرمائیں۔مہمان نے جواب دیا آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا۔جو آپ اس رنگ میں اپنا احسان مجھ پر جتانا چاہتے ہیں۔احسان تو میرا ہے آپ پر اور آپ الٹا اپنا احسان مجھ پر جتاتے ہیں۔اس پر میزبان نے کہا کہ میں کوئی احسان نہیں جتا رہا۔بلکہ میں تو اپنی کو تاہی کے لئے عذر خواہی کر رہا ہوں۔جو آپ کی تواضع کرنے میں مجھ سے ہو گئی ہو۔لیکن اگر مجھے یہ بھی معلوم ہو جائے کہ آپ نے مجھ پر احسان بھی کیا ہے۔تو میں اور بھی ممنون ہوں گا۔اس پر مہمان نے کہا۔اگر اور باتوں کو میں چھوڑ بھی دوں تو بھی میرا یہ احسان کیا کم ہے کہ میں نے تمہارے ہزاروں روپے کے مال کو آگ نہ لگائی۔جب تم میرے لئے اندر کھانا لینے جاتے تھے۔اس وقت میرے لئے یہ آسان تھا کہ میں مکان کو آگ لگا دیتا۔مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔تم ذرا سوچو تو سہی۔اگر میں آگ لگا دیتا تو