خطبات محمود (جلد 9) — Page 25
25 جایا کرتے تھے اپنی بیوی کو انہوں نے کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہ کس کے لئے لے جاتے ہیں جس سے ان کی بیوی کو شبہ ہوا کہ شائد ان کا کسی سے ناجائز تعلق ہے۔اتفاق سے وہ بزرگ ایک دن بیمار ہو گئے انہوں نے بیوی سے کہا کہ چاول پکا کر فلاں جگہ دریا کے پار ایک بزرگ رہتے ہیں اس کے پاس لے جاؤ بیوی نے کہا کہ راستہ میں دریا ہے میں کیسے پار اتروں گی۔انہوں نے کہا کہ میرا نام لیکر دعا کرنا کہ الہی اس شخص کا تجھے واسطہ دیتی ہوں جو کبھی عورت کے پاس نہیں گیا چنانچہ وہ کھانا لیکر گئی اور دریا کے کنارے کھڑے ہو کر اسی طرح دعا کی جس کے بعد ایک کشتی آگئی وہ سوار ہو کر پار اس بزرگ کے پاس چلی گئی جب وہ چاولوں کا طباق کھا چکے تو اس بزرگ سے اس نے کہا کہ اب میں واپس کیسے جاؤں اس بزرگ نے کہا کہ تم میرا نام لیکر خدا سے دعا کرنا کہ الہی اس شخص کا میں تجھے واسطہ دیتی ہوں جس نے کبھی ایک دانہ بھی چاول کا نہیں کھایا۔چنانچہ اس نے اسی طرح دعا کی جھٹ کشتی آگئی اور سوار ہر کر گھر آگئی اور اپنے میاں سے کہنے لگی کہ میں تو سمجھتی تھی کہ خدا سچائی سے دعائیں قبول کرتا ہے مگر آج معلوم ہوا کہ وہ جھوٹ سے زیادہ قبول کرتا ہے کیونکہ میں تمہاری بیوی ہوں اور یہ تمہارے بچے ہیں اگر عورت کے پاس تم نہیں گئے تو یہ بچے کس کے ہیں اور اس بزرگ نے بھی میرے سامنے چاولوں کا بھرا ہوا طباق کھایا ہے تو یہ درست کیسے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کبھی ایک دانہ بھی چاولوں کا نہیں کھایا۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ جھوٹ نہیں سچ ہے کیونکہ نہ میں کبھی اپنے نفس کی خواہش سے عورت کے پاس گیا اور نہ کبھی اس بزرگ نے اپنے نفس کی خواہش سے کھانا کھایا ہمارے تعلقات اور کھانا پینا اس کے حکم کے ماتحت اور احتسابا ہی ہیں۔سید عبدالقادر جیلانی صاحب نے لکھا ہے کہ میں کھانا نہیں کھاتا جب تک کہ خدا مجھے یہ نہیں کہتا کہ میں تجھے اپنی ذات کی قسم دیتا ہوں کہ تو کھانا کھا اور میں پانی نہیں پیتا جب تک کہ خدا مجھے یہ نہیں کہتا کہ میں تجھے اپنی ذات کی قسم دیتا ہوں تو پانی پی اور میں کپڑا نہیں پہنتا جب تک کہ خدا مجھے یہ نہیں کہتا کہ میں تجھے اپنی ذات کی قسم دیتا ہوں کہ تو کپڑا پہن لے ۲۔بعض آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عبد القادر نعوذ باللہ کپڑے اتار کر ننگے ہو جاتے تھے اور کھانا چھوڑ کر بھوکے بیٹھ جاتے تھے اور خدا ان کو اپنی ذات کی قسمیں دے دے کر کھانا کھلاتا اور کپڑا پہناتا تھا حالا نکہ ننگے ہو جانا یہ تو جہالت ہے اور کھانا چھوڑ دینا خود کشی ہے۔ایک ادنی مومن کی بھی یہ شان نہیں کہ وہ ایسی حرکت کرے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کہ کلوا و اشربوا (الاعراف (۳۲) کا حکم ان کے سامنے نہیں آجاتا تھا وہ کپڑا نہیں پہنتے تھے جب تک کہ اما