خطبات محمود (جلد 9) — Page 287
287 ذہن میں آنے لگے کہ ایسا معلوم ہوتا کہ یہ الفاظ دروازہ تھا۔جس کے آگے وہ سرسبز و شاداب باغ ہے کہ جس میں طرح طرح کے پھل اور میوے ہیں۔اسی طرح آپ کی دوسری کتابوں کا حال ہے۔ان کو اگر پڑھا جائے۔تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علوم کا دریا بریں مار رہا ہے۔پس جہاں میں یہ بتانا چاہتا ہوں۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کام کئے وہ دوسرے نہیں کر سکتے تھے۔وہاں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کی کتابوں کو قصہ کہانی کے طور پر نہ پڑھو بلکہ نیک نیتی کے ساتھ ان کا مطالعہ کرو۔تو معلوم ہو گا کہ ان میں ہر عقل والے کے لئے علم رکھا گیا ہے اور ہر قسم کا علم رکھا گیا ہے اور جب اس طرح کوئی شخص انہیں پڑھے گا تو اسے خود بخود معلوم ہو گا کہ جو کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہے۔وہ کس قدر عظیم الشان ہے اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ آپ ہی کے کرنے کا تھا۔علماء اسے کر ہی نہ سکتے تھے بلکہ وہ تو سمجھ بھی نہ سکتے تھے۔الفضل ۲۰ اکتوبر ۱۹۲۵ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے "آئینہ کمالات اسلام" کے صفحہ ۲۲۳ ۲۲۴ میں حسب ذیل سطور ارقام فرمائی ہیں جن کی تشریح اور توضیح حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے اس موقع پر کی ہے۔یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں۔سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔نہ پتھر کی نہ آگ کی۔نہ آدمی کی نہ کسی ستارہ کی۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا ان کو ربوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں۔بلکہ ہمیشہ مسبب پر نظر رہے۔نہ اسباب پر۔تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر ایک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی۔غرض ہر ایک چیز نظر میں فانی دکھائی دے۔بجز اللہ تعالی کی ذات کامل الصفات کے۔یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاث توحید کے حاصل ہو جائیں"۔اکبر الہ آبادی