خطبات محمود (جلد 9) — Page 24
24 پس قانون شرعی میں بڑائی اور تنزل اخلاص اور ارادہ کی کمی اور زیادتی پر بہت کچھ منحصر ہے اگر ایک شخص نیک ارادہ سے اعمال بجالاتا ہے۔اور وہ مخلص ہے تو جو نتیجہ اس کے اعمال کا نکلے گا وہ نتیجہ دوسرے کے اعمال کا نہیں نکلے گا جس کے اعمال میں اخلاص اور نیک ارادہ نہیں پایا جاتا یا کم پایا جاتا ہے۔بعض لوگوں کو یہ دھوکا لگتا ہے اور وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بد اعمالی کا بھی وہی نتیجہ نکلتا ہے جو نیک ارادہ کے ساتھ نیک اعمال کا۔بے شک جو شخص اخلاص اور نیک ارادہ سے نماز پڑھے گا اور روزے رکھے گا وہ اس کا ضرور نیک اجر پائے گا۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ہم میں بڑا اخلاص ہے مگر نماز نہیں پڑھتے اور روزے نہیں رکھتے۔یہ ممکن نہیں کہ دھواں ہو اور آگ نہ ہو۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ نوافل میں فرق پڑ جائے کیونکہ انسان اور کاموں کی وجہ سے قلیل وقت اس یر صرف کر سکتا ہے۔نیکی صرف نماز روزہ حج اور زکوۃ ہی نہیں بلکہ خود اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی فکر کرنی یہ بھی ثواب ہے۔اگر ثواب اور تعمیل ارشاد کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں بھی لقمہ ڈالتا ہے یا اپنے بچہ کو اس طرح کھانا کھلاتا ہے یا نوکروں غلاموں سے نیک سلوک کرتا ہے تو وہ بھی نیکی کرتا ہے۔حالانکہ یہ کام کافر بھی کرتے ہیں مگر یہ اپنی نیت اور اخلاص کی وجہ سے ان پر اجر پاتا ہے کیونکہ اسلام نے تمام بنی نوع انسان اور دنیا کی تمام مخلوقات سے بلکہ حیوانوں تک سے نیک سلوک کرنا نیکی قرار دیا ہے۔اس لئے اگر وہ احتساباً اعمال بجالاتا ہے تو اس کا ہر فعل دنیا کا بھی نیکی میں شمار ہوتا ہے۔اگر تاجر ہے تو اس کے تجارتی کاروبار نیکی ہیں۔اگر مزدور ہے تو اس کا ٹوکری ڈھونا۔اگر ملازم ہے تو اس کا اپنی ملازمت پر جانا اور وہاں کام کرنا۔ہر حرفہ والا جو کوئی حرفہ کرتا ہے۔ایک دوکاندار جو دکان کرتا ہے اس کا ہر سودا جو وہ دیتا ہے۔ایک راج جو را جگیری کرتا ہے بلکہ ایک ایک اینٹ جو وہ لگاتا ہے۔ایک لکڑہارا جو کلہاڑا مارتا ہے وہ سب نیکی ہے جس کا اجر اس کو ملے گا۔بشرطیکہ وہ اپنے دنیاوی کام میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھے۔اس طرح انسان اپنے اخلاص سے اپنے ہر ایک فعل کو نیکی بنا لیتا ہے بلکہ جو کام کہ دوسروں کے لئے عیاشی سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اس کے لئے نیکی ہو جاتے ہیں۔صوفیاء نے ایک واقعہ لکھا ہے جسے حضرت مسیح موعود بھی بیان فرمایا کرتے تھے اور میں نے پہلے حضرت صاحب ہی سے سنا ہے کہ ایک بزرگ روزانہ ایک تھال کھانے کا تیار کرا کر کہیں لے