خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 272

272 پس ان صفات کو بہ کو بندوں میں پیدا را تو کیا گیا لیکن ایک حد تک اور ان کی حد : اور ان کی حد بندی کر دی مگر بعض نادان ان صفات کو ایک بندہ میں دیکھ کر شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان صفات کو انسان میں داخل کرنے کی یہ غرض ہے کہ وہ خدا کا مظہر ہے۔ کیونکہ بغیر ان ران کے وہ مظہر ہو ہی نہیں سکتا۔ بینائی ہے۔ شنوائی ہے۔ گویائی ہے۔ علم ہے اور اور ایسی باتیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے انسان میں اپنا مظہر بنانے کے لئے رکھیں اور پھر یہ باتیں بعد میں بھی پیدا نہیں ہو ئیں بلکہ یہ پہلے دے کر انسان کو بھیجا ہے اور جس حد تک یہ انسان میں رکھی ہیں۔ اس سے بڑھ بھی نہیں سکتیں۔ اب اس تعریف کے ماتحت دیکھو۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح بھی مردے زندہ کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے مردے زندہ کرنا ہمارا کام ہے۔ باوجود اس کے اگر کوئی ایسا کرتا ہے۔ وہ شرک کرتا ہے۔ اسی طرح کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔ کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کرتے تھے۔ کیونکہ اس کے متعلق بھی خدا فرماتا ہے کہ پیدا کرنا ہمارا کام ہے۔ پس اگر توحید کی یہ تعریف مسلمانوں کے ذہن میں ہوتی تو پھر وہ کس طرح یہ کہہ سکتے تھے کہ کوئی انسان بھی مردے زندہ کر سکتا ہے ہے یا کوئی انسان پرندے بنا سکتا ہے۔ مگر یہ سب توحید اور شرک کی حقیقی تعریف نہ سمجھنے کا نتیجہ ہوا۔ کہ لوگ ایسے ایسے مشرکوں میں پھنس گئے کہ باوجود بتانے کے بھی وہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ بھی کوئی شرک کی قسم ہے۔ غرض وہ قوتیں جو خدا تعالیٰ بندوں کو دیتا ہے اور وہ طاقتیں جو اس کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں۔ وہ موہبت ہوتی ہیں۔ اور عطیہ کے طریق پر ہوتی ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ اس لئے بندوں کو دیتا ہے۔ تا اس کی صفات کا اظہار ہو اور اس طور پر بندے میں ان صفات کا ہونا شرک نہیں۔ مثلاً کسی کے پاس ہزار روپیہ ہے۔ اگر وہ کسی کو سو روپیہ دے دے تو حرج نہیں۔ کیونکہ اس طرح دینا خدا تعالیٰ نے انسان کے اختیار میں رکھا ہے مگر کسی کو بیٹا دینا یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے۔ میں بیٹا دے سکتا ہوں۔ تو وہ مشرک ہوگا کیونکہ انسان کو تو اتنا بھی علم نہیں ہوتا کہ یقینی طور پر کسی کے متعلق یہ کہہ سکے کہ اس کے ہاں بٹیا ہو گا یا بیٹی ۔ پس روپیہ دینا خدا نے بندے کے اختیار میں رکھا ہے لیکن بیٹا دینا بندے کے اختیار میں نہیں رکھا۔ کیونکہ اس طرح خدا اور بندہ دونوں ایک کام میں مشترک ہو جاتے ہیں اور شرک لازم آتا ہے۔ پس ایسا شخص جو یہ کہے کہ میں بیٹا دے سکتا ہوں وہ مشرک ہے۔ پس سب سے بڑھ کر حربہ شرک کے برخلاف نہیں ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة