خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 17

17 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی طاعون کی اموات کے متعلق فرمایا ہے کہ ایسی میتوں کو بغیر غسل اور کفن کے دفن کر دیا جائے اور جنازہ بھی فاصلہ پر کھڑے ہو کر ادا کیا جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بظاہر طبیعت پر یہ بات بہت گراں گزرتی ہے لیکن اگر ہم غور کریں اور سوچیں تو عقلاً یہ بات اس قدر ضروری ہے کہ اس کے خلاف کرنا سخت نادانی اور جہالت ہے۔ہمارے نہلا دینے سے یا جنازے کے قریب ہونے سے میت کو کیا فائدہ وہ زندہ تو ہو نہیں سکتا۔اب اگر اس میں عملی حصہ لے کر چار یا پانچ یا دس آدمی جو زندہ ہیں موت کے منہ میں چلے جائیں تو یہ کوئی عقلمندی نہیں۔جب تک تو ایک شخص بیمار ہے اس کے بچنے کی امید ہو سکتی ہے۔ایسی حالت میں تو ضروری احتیاطوں کے ماتحت اگر دس آدمی بھی اس ایک کی خبر گیری اور جان بچانے کے لئے موت کے منہ میں پڑ جائیں تو کوئی حرج نہیں۔بلکہ ضروری ہے کہ وہ ایثار دکھلائیں۔مثلاً اگر کوئی شخص ڈوب رہا ہے تو اس ایک جان کو بچانے کے لئے دس آدمی بھی اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیں تو جائز بلکہ ضروری ہو گا۔خواہ ڈوبنے والا بھی بعد میں جانبر نہ ہو سکے بلکہ دس میں سے پانچ نکالنے والے بھی چاہے ڈوب جائیں۔لیکن اگر ایک میت پانی پر تیر رہی ہو تو اس کو نکالنے کے لئے ایک آدمی کا بھی اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا جائز نہیں ہو گا بلکہ بیوقوفی ہو گی۔بہت سے مقامات پر جذبات دبانے پڑتے ہیں۔کیونکہ ان کے اظہار کی بھی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ آپس کے تعلقات قائم ہوں اور محبت بڑھے۔اور ڈوبنے والا یا بیمار زندہ رہے لیکن اگر جذبات ان مقاصد میں روک ہوں اور جس غرض کے لئے جذبات کا اظہار ضروری ہوتا ہے وہ غرض پوری نہ ہوتی ہو تو پھر ان کو دبانا ہی ضروری ہوتا ہے۔جذبات تو محبت آشتی اور تعلقات کے بڑھانے اور زندگی کے قیام کے لئے بطور خادم ہوتے ہیں۔لیکن اگر وہ بجائے زندگی کے قیام کے ہلاکت کا موجب ہوں تو ان کو دبا دینا ہی ضروری ہوتا ہے۔ورنہ اس وقت اس کا مفہوم ایسا ہی ہو گا جیسا کہ کسی کا کوئی عزیز مرجائے اور وہ تلوار یا خنجر سے اپنے آپ کو قتل کر ڈالے۔پس جو شخص ایسی میت پر جو طاعون کا شکار ہو چکی ہے ضروری احتیاط نہیں کرتا وہ طبعی طور پر اپنے آپ کو خنجر سے ہلاک کرتا ہے۔کیونکہ طاعون کا کیڑا خنجر سے کم نہیں۔فرق اتنا ہے کہ خنجر نظر آتا ہے۔اور وہ نظر نہیں آتا۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت بچہ جننے کے وقت جب کہ یہ ثابت ہو جائے کہ اب مرد ڈاکٹر کے ذریعہ بچہ جنوانے کے بغیر وہ مرجائے گی لیکن وہ شرم کرتی ہے تو وہ میرے نزدیک خود کشی کا ارتکاب