خطبات محمود (جلد 9) — Page 205
205 سامان اس نے آپ پیدا کئے تھے۔نہیں بلکہ اس سے تقریباً دو سو سال پہلے سے پیدا ہو رہے تھے پس نپولین فرانس کی بغاوت سے بڑا بنا اور اس لئے بڑا بنا کہ اس کے خیالات ملک کے خیالات کے مطابق تھے۔لوگوں نے اسے چن لیا۔اس میں اس کی اپنی اتنی عظمت نہیں جتنی اس کے انتخاب کرنے والوں کی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو چن لیا جو ہر طرح کام کے قابل تھا اور جس آدمی کی ظاہری حیثیت دنیا میں کوئی بڑی نہیں تھی۔یہ بات نپولین نے پیدا نہیں کی تھی۔بلکہ لوگوں نے اسے چنا اور وہ اسی طرف چل پڑا جس طرف کہ ملک اس وقت چل رہا تھا۔پس یہ کہنا کہ اس کی یہ کامیابی معجزہ کا رنگ رکھتی ہے۔درست نہیں۔آنحضرت ﷺ کی کامیابی کو دیکھ کر جو فی الحقیقت معجزانہ تھی۔بعض لوگوں نے اس کے معجزانہ ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ سب کچھ تلوار کے زور سے ہوا۔اور یہی بات یورپ والوں نے بھی کہنی شروع کر دی۔لیکن یورپ ہی کے ایک مصنف نے اس کی تردید لکھی ہے۔جو لکھتا ہے۔میں مسلمان نہیں ہوں لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے جب دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔اگر میں یہ مان بھی لوں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تو میں یہ کیسے مان لوں کہ اکیلے رسول (صلعم) کی تلوار نے ایسے لوگ پیدا کر دیئے جو سب کے سب اس کے ساتھ جانیں قربان کرنے کے لئے دوڑے پھرتے تھے۔آخر یہ تلوار چلانے والے پیدا کس نے کئے۔تو رسول کریم ﷺ کی یہ کامیابی معجزانہ رنگ میں تھی۔نہ لوگوں کی رو اس طرف تھی جس طرف آپ ان کو لے گئے اور نہ ہی ان کے خیالات ایسے تھے کہ نبی کریم کے خیالات کے مطابق ہوتے۔پس باوجود ان حالات کے آپ کا کامیاب ہو جانا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ معجزانہ طور پر تھا اور خدا تعالیٰ کی مدد و نصرت سے تھا نہ کہ انسانی کوششوں اور اسبابوں سے۔مگر کیا نپولین کے متعلق کوئی ایسا کہہ سکتا ہے اس کے لئے تو پہلے سے سامان موجود تھے وہ ابھی بچہ تھا کہ اس کے زمانہ میں لوگ رات دن گورنمنٹ کے برخلاف جدوجہد میں لگے رہتے تھے۔پس انبیاء میں ایسے وجود ہوتے ہیں۔جنہیں مخالف حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کی کامیابی معجزانہ اور نشان صداقت کے طور پر ہوتی ہے۔بعض لیڈر بھی ترقی کر جاتے ہیں۔مگر ان کا بڑھنا اور ایک حد تک کامیابی پا جانا عارضی ہوتا ہے۔ایسا ہی لوگوں کی پیر پرستی کو دیکھ کر اگر کوئی شخص خود پیر بن کر لوگوں کو اپنا مرید بنا لیتا ہے تو یہ بھی کوئی معجزہ نہیں کیونکہ وہ اس رو کے مطابق کام کر کے کامیاب ہوتا ہے جس میں لوگ آپ ہی آپ سے چلے جاتے ہیں یہی حال سرسید کا تھا۔انہوں نے مسلمانوں میں انگریزی تعلیم جاری کرنے