خطبات محمود (جلد 9) — Page 203
203 26 دعوت الی اللہ (فرموده ۱۷ جولائی ۱۹۲۵ء تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسانی کوششیں اور اسباب نہایت ہی محدود ہوتے ہیں۔اور غیر معمولی نتائج جو ان سے پیدا ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے فضل اور احسان ہی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان نہ ہو اور اس کی طرف سے رہنمائی نہ ہو تو انسانی کوششوں کا بار آور ہونا مشکل ہوتا ہے۔اور پھر انسانی دلوں کا بدلنا تو ایک نہایت ہی مشکل بات ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ماں باپ نہایت کوشش کر کے اپنی اولاد کو اپنا ہم خیال بنانا چاہتے ہیں۔لیکن باوجود کوشش کے بھی اولاد میں سے کسی ایک بچے یا سارے بچوں کو بھی اپنا ہم خیال نہیں بنا سکتے۔حالانکہ اولاد ماں باپ کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھتی ہے اور وہ یقین رکھتی ہے کہ یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں۔ہماری بھلائی کے لئے کرتے ہیں۔ماں باپ اور اولاد میں بعض دفعہ اختلاف بھی ہو جاتا ہے۔جس کا باعث اختلاف خیالات ہے نہ کہ بد نیتی یا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا یا ایک دوسرے پر ظلم کرنا۔لیکن باوجود اس اختلاف کے ان میں ایک محبت ہوتی ہے اور عشق تک نوبت پہنچی ہوتی ہے۔اور باوجود اس کے کہ ایک دوسرے کی نیت کے متعلق غلط فہمیاں بھی نہیں ہوتیں۔ہر فردان کا اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ جو بات ان کی جانب سے ہوتی ہے۔خیر خواہی سے ہوتی ہے۔اور باوجود اتنی موانست کے پھر بھی اختلاف پیدا ہوتے ہیں اور مٹ نہیں سکتے۔ماں باپ زور لگاتے ہیں کہ بیٹے ہمارے ہم خیال ہو جائیں۔مگر وہ نہیں ہوتے پس اگر اس قدر سامان اتحاد کے باوجود اگر اس قدر بھروسہ کے باوجود اور اگر اس قدر توکل کے باوجود بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو ان لوگوں پر کامیابی حاصل کرنا اور ان لوگوں کے خیالات کو بدل ڈالنا جو کوئی اتحاد نہیں رکھتے اور جن کے ساتھ کسی قسم کے رابطہ نہیں بلکہ الٹی بد ظنیاں ہوتی ہیں کتنا مشکل کام ہے۔