خطبات محمود (جلد 9) — Page 182
182 جا سکتا ہے۔لیکن مسلمان ملازم پر نہیں کیا جا سکتا۔اور ان کی بد بختی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ہمیں عیب کرنا بھی نہیں آتا۔ایک ہندو اگر رشوت لے گا تو اپنا پہلو بچا کر۔لیکن مسلمان ایسے رنگ میں لے گا کہ اپنے آپ کو تباہ کر لے گا۔اسی طرح ایک ہندو اپنی قوم کی مدد کرے گا تو ایسے طریق سے کہ کسی گرفت میں نہ آسکے۔لیکن اگر ایک مسلمان مدد کرے گا تو اپنے آپ کو پھنسا لے گا۔پس مسلمانوں کا نیکی کرنا تو الگ رہا انہیں بدی کرنا بھی نہیں آتا۔سیاسی لیڈروں کو ہی لے لو۔ایک بھی مسلمان لیڈر ایسا نہیں جو دنیا میں کچھ وقعت رکھتا ہو۔خود مسلمان یہ کہتے ہیں کہ گاندھی جی عقل اور اخلاق میں تمام دنیا کے لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔حالانکہ اعلیٰ اخلاق ہی مذہب کی پہلی سیڑھی ہیں۔اگر گاندھی جی کے اخلاق تمام دنیا کے مسلمانوں سے اعلیٰ ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا مذہب بھی سچا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ پھر روحانیت کسی مسلمان میں نہیں ہے ابھی بنگال کے بہت بڑے لیڈر مسٹری - آر - واس فوت ہوئے ہیں۔مسلمانوں کو خود اعتراف تھا کہ کوئی مسلمان عقل اور سمجھ اور اخلاق کے لحاظ سے ان کا ہم پلہ نہ تھا۔بات یہ ہے کہ ہندو لیڈروں کی باتوں میں سنجیدگی اور متانت ہوتی ہے۔وہ کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس میں چھچھورا پن پایا جائے۔انہیں اپنی غلطی پر اصرار نہیں ہو تا۔گاندھی جی کو کبھی اس بات پر مصر نہ پاؤ گے کہ وہ کہیں میں ضرور صحت پر ہوں۔باوجود اس کے کہ سوراجیہ کے لئے سب سے زیادہ کوشش کرنے والے وہ ہیں کہتے ہیں اگر انگریزوں سے صلح کا کوئی طریق نکلے تو میں صلح کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر مسلمان لیڈر سوائے دھمکی دینے اور ڈراوا بتانے کے اور کچھ جانتے ہی نہیں۔مجنونوں کی طرح کہتے رہتے ہیں کہ ہم یوں کریں گے۔ہم دوں کر دیں گے اور پیچھے کچھ بھی نہیں کرتے۔مثلاً مسلمان لیڈروں کی طرف سے پہلے کہا جاتا تھا کہ اگر خلافت ترکی کا معاملہ ہمارے خیال کے مطابق طے نہ ہوا تو گورنمنٹ برطانیہ کو پتہ لگ جائے گا ہم کیا کر سکتے ہیں۔لیکن جب گورنمنٹ نے وہی کیا جو اس کا منشاء تھا البتہ اتنا کر دیا کہ ہم نے ترکوں کے لئے جن مطالبات کو جائز اور مناسب بتایا وہ منظور کر لئے گئے تو مسلمانوں نے کچھ بھی نہ کیا اور آخر جب ترکوں نے خود ہی خلافت کو اڑا دیا تو مسلمان یہ کہنے لگ گئے کہ جس قسم کی پارلیمینٹ مصطفیٰ کمال پاشا نے خلافت کو اڑا کر بنائی ہے دراصل وہی خلافت ہے۔اور ہماری خلافت سے مراد اسی قسم کی خلافت تھی۔مگر یہ ان کی مراد ایسی ہی تھی جیسی ایک دفعہ پیر جماعت علی شاہ صاحب نے اپنی مراد بیان کی تھی انہیں مجھ سے کچھ کام تھا۔انہوں نے میرے لئے چائے بنوا کر منگائی اور کشمش وغیرہ کھانے کے لئے پیش کئے۔چونکہ مجھے نزلہ تھا۔اس لئے میں نے کھانے سے