خطبات محمود (جلد 9) — Page 181
181 یا موت کی وجہ سے اپنے آپ کو کامل نمونہ نہ بنا سکیں گے۔ اور اس امر کی کوشش کرتے ہوئے میدان جنگ میں مارے جائیں گے۔ محمد ان کے متعلق کہیں گے ان کو میرے ساتھ فاتحین میں شامل کیا جائے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس شخص کے متعلق یہ کہیں گے خدا تعالٰی اسے منظور کر لے گا۔ یہ ہے شفاعت۔ لیکن مسلمانوں میں اس مسئلہ کو غلط طریق پر سمجھنے کی وجہ سے یہ نتیجہ پیدا ہوا ہے۔ کہ وہ کہتے ہیں جو جی چاہے کرو رسول کریم شفاعت کر کے بخشوا لیں گے۔ ان کے نزدیک مسلمان سب سے بد ترین اخلاق رکھیں۔ ہر قسم کے عیوب میں مبتلا ہوں۔ ہر قسم کی بدکاریوں کا ارتکاب کریں۔ کوئی پرواہ نہیں کیونکہ۔ مستحق شفاعت گناہ گاراں اند اگر ہم گناہ گار نہ ہوں گے تو پھر رسول کریم شفاعت کس کی کریں گے۔ تو وہ مسئلہ جس سے اسلام نے مسلمانوں کی ہمت بڑھائی تھی کہ تم پاک ہونے کی اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کرو گویا اس مسئلہ میں ہر ایک مومن کو مثیل محمد بنے کی کوشش کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ لیکن اب کہا جاتا ہے کہ ابو جہل بننا چاہیے۔ تاکہ محمد ا شفاعت کر سکیں۔ اس خیال کی وجہ سے مسلمانوں میں مثیل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں۔ بلکہ مثیل ابو جہل، عقبہ، شیبہ پیدا ہو رہے ہیں۔ جس پر کہنا پڑتا ہے۔ سے ے ا اے روشنی طبع تو بر من بلاشدی قرآن کریم کی اعلیٰ تعلیم جو مسلمانوں کو پاک اور مطہر کرنے کے لئے آئی وہ تعلیم جس کی وجہ انہیں دیگر مذاہب پر فتح ہب پر فتح حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ سے کہتے ہیں ہم کامل ہو گئے۔ ہمیں کسی چیز کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وہ شفاعت کی تعلیم جو ہمت بندھانے اور حوصلہ بلند کر کے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بروز بنانے کے لئے آئی تھی۔ وہ بھی ان کی تباہی کا موجب ہو گئی۔ ان دو باتوں کا نتیجہ یہ ہوا (اس زمانہ سے جب سے کہ مسلمان بگڑے پہلے مسلمان تو ان سے وہی فائدہ حاصل کرتے رہے۔ جو ان سے مقصود تھا کہ اخلاق فاضلہ کی طرف مسلمانوں کی بالکل توجہ نہیں رہی۔ کس قدر افسوس اور رنج کی بات ہے کہ آج مسلمان ہر بات میں دوسروں سے پیچھے ہیں۔ شستہ اور اعلیٰ اخلاق میں مسلمان پیچھے ہیں۔ تجارت میں مسلمان پیچھے ہیں۔ ایک ہندو تاجر پر اعتبار کیا جا سکتا ہے، ایک سکھ تاجر پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ ایک انگریز تاجر پر بہت زیادہ اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر نہیں کیا جا سکتا تو مسلمان تاجر پر۔ اسی طرح ملازمتوں میں ہندو سکھ عیسائی پر بھروسہ بھروسہ کیا