خطبات محمود (جلد 9) — Page 171
171 ایک شخص جس نے سائن بورڈ تو یہ لگایا ہوا ہے کہ اس دوکان پر بوٹ فروخت ہوتے ہیں۔لیکن اندر اس نے چاول ڈال رکھے ہوں تو جب کوئی بوٹوں کا گاہک آئے گا دوکان میں چاول دیکھ کر اسے ملامت کرے گا اور وہ کچھ جواب نہ دے سکے گا۔کیونکہ بوٹوں اور چاولوں میں اتنا بڑا فرق ہے۔کہ اس کے لئے بحث کرنے اور تو جیہیں بیان کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔لہذا اس کو خاموشی کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔ہاں اگر چاولوں کا اس نے بورڈ لگایا ہوا ہوتا تو موٹے یا باریک چاولوں کی بحث بھی ہو سکتی تھی۔تو بعض باتیں اتنی موٹی اور ایسی واضح اور کھلی ہوتی ہیں کہ جن کے متعلق بحث کا کوئی موقع ہی نہیں ہوتا۔مثلاً اگر شریعت میں نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم نہ ہوتا تو ایک بے نماز کو یہ بحث کرنے کا موقع مل سکتا تھا کہ میں تو گھر پر نماز پڑھ لیتا ہوں لیکن جس صورت میں نماز با جماعت ادا کرنے کا حکم ہے۔اور وہ مسجد میں نماز با جماعت ادا کرنے کے لئے نہیں آتا وہ یہ عذر نہیں کر سکتا کہ میں گھر پر پڑھ لیتا ہوں۔پس ایسے احکام جو کھلے اور نمایاں ہوں ہر ایک کی جن پر نظر پڑتی ہو ان کی پابندی سے انسان کے اندر ایک قومی غیرت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اخلاق سے اتنا دور نہیں جا پڑتا کہ قوم میں مطعون ہو جائے۔ان دو باتوں میں سے ایک ڈاڑھی رکھنا ہے مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی ہے کہ لوگ ڈاڑھی کیوں منڈواتے ہیں۔میں بھی ڈاڑھی رکھتا ہوں۔ڈاڑھی منڈوانے کی کوئی وجہ مجھے نظر نہیں آتی میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ کوئی شخص سر جھکائے چلا آتا ہو اور دریافت کرنے پر اس نے یہ کہا ہو کہ ڈاڑھی کے بوجھ سے میرا سر جھکا جاتا ہے۔یا کسی شخص کو میں نے نہیں دیکھا کہ وہ بیتاب ہو رہا اور گھبرایا ہوا جا رہا ہو اور دریافت کرنے پر اس نے یہ بتلایا ہو کہ سخت گرمی لگ رہی ہے۔ڈاڑھی منڈوانے جا رہا ہوں۔اسی طرح میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی ضرورت کی بناء پر لوگ ڈاڑھی منڈواتے ہوں دوسروں کی دیکھا دیکھی ڈاڑھی منڈواتے ہیں۔محض اس وجہ سے کہہ دوسرے ان پر ہنتے ہیں یا یہ کہ دوسرے بھی سب کے سب نہیں رکھتے۔جب ڈاڑھی منڈوانے کی کوئی وجہ نہیں تو پھر ضرورت کیا ہے۔کہ ڈاڑھی منڈوائی جائے۔ڈاڑھی اسلام کے شعار میں سے ایک شعار ہے۔اب ایک غیر جو دیکھے گا کہ ایک شخص مسلمان کہلاتا ہے اور ڈاڑھی منڈواتا ہے۔تو وہ یہی کہے گا کہ یہ کہلاتا تو مسلمان ہے لیکن اسلامی شعار کی اس کے دل میں کچھ حرمت اور وقعت نہیں۔اس لئے وہ ڈاڑھی منڈوا کر اسلام کی ہتک کرتا ہے۔جب ڈاڑھی کا کوئی بوجھ نہیں نہ یہ کہ اس کی وجہ سے سخت گرمی محسوس ہوتی ہے اور ادھر ڈاڑھی رکھنا اسلام کے شعار میں سے ہے۔اور آنحضرت صلی