خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 12

12 کے ماتحت کام کر رہا ہوتا ہے اور لوگ اس کو سنگدل اور قسی القلب کہتے ہیں حالانکہ وہ رحم کر رہا ہوتا ہے اور یہ نہیں کہ ایسا کام کرتے ہوئے اس کو کوئی دکھ نہیں ہوتا وہ خود بھی دکھ اٹھاتا ہے یا کم از کم اس کا دل اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ان دو کیفیتوں کے علاوہ ایک طبعی حالت یہ بھی ہے کہ انسان کے جذبات اور اس کی عقل دونوں ایک ہی وقت کام کرتے ہیں۔یہ احساسات اور جذبات بلا وجہ نہیں پیدا کئے گئے بلکہ یہ مادہ بہت سی نیکیوں کے لئے ممد اور معاون ہو جاتا ہے اور بہت سے نیک کام انہی کے اثر کے ماتحت انسان کو کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔بعض نیک کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سوچ کرنے کا موقع ہی نہیں ہو تا۔اگر اس وقت انسان سوچنے لگے تو نقصان ہوتا ہے اور بعض اوقات انسان خود سوچ بھی نہیں سکتا۔محض جذبات اور احساسات کی وجہ سے نیکی کر لیتا ہے۔مثلاً ایک شخص جو مظلوم ہے کوئی دوسرا اس کو مار رہا ہے اس پر ظلم کر رہا ہے۔تو پچانویں فیصد ایسے ہوں گے جو ظالم کے ہاتھ کو روکیں گے اور اس کو برا کہیں گے اور مظلوم کی طرف داری اور اس کی مدد کریں گے مگر یہ نیکی اور یہ ہمدردی کسی عقل اور فکر کا نتیجہ نہیں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تحقیق کے بعد وہی ظالم ثابت ہو جس کو وہ مظلوم سمجھ کر اس کی طرفداری کر رہا تھا۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہی مظلوم ثابت ہو مگر اس سے پہلے وہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ حق کس کی طرف ہے اور کسی کی طرف نہیں اور داد رسی کا کون مستحق ہے۔یہ یا وہ۔بلکہ اس کے جذبات اور اس کے احساسات خود بخود اس کو کھینچ کر مظلوم کی داد رسی کے لئے اس کو آمادہ کر دیتے ہیں۔اس لئے بسا اوقات یہ احساسات جہاں پر انسان سے بلا سوچے ایک نیکی کا کام کرا دیتے ہیں وہاں پر بعض اوقات ان کے اثر کے ماتحت انسان غلطی بھی کر بیٹھتا ہے۔بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص چور کو پکڑنے کے لئے دوڑا جا رہا ہوتا ہے وہ غلطی سے اس کی کمر پکڑ لیتا ہے اور اصل چور ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور اگر اس وقت سوچنے لگتا کہ وہ کس کو پکڑے تو دو چار منٹ اس کے لئے درکار تھے جس سے موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔غرض ایسی حالت میں دونوں صورتیں نقصان دہ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ محض جذبات یا محض عقل اس کو کسی نیکی کی طرف لے جائیں یا کسی غلطی کی طرف لے جائیں۔لیکن جو عقل اور جذبات دونوں سے کام لیتا ہے۔وہ ٹھوکر سے بچ جاتا ہے۔مثلاً اگر وہ آگے بھاگنے والے کے پیچھے دوڑے اور پہلے اس کو پکڑ لے تو نقصان بھی نہیں ہو گا۔کیونکہ چور پکڑا جائے گا اور اس کی حمایت کا جذبہ بھی پورا ہو جائے گا۔یا مثلاً ایک شخص دوسرے کو مار رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ حق رکھتا ہو اور مظلوم ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے وہ ظالم ہو مگر ظاہری حالات