خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 164

164 غلط فہمی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا۔کہ میں نے جھوٹ بولا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے جواب دیا ہاں حضور آج واقعہ میں بہت لوگ تھے میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی۔خدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرا دی۔یا فی الواقع اس دن غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہوا ہے جس کا آج تک میرے قلب پر ایک گہرا اثر ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو نماز با جماعت کا کتنا خیال رہتا تھا۔بڑا آدمی اگر خود نماز با جماعت نہیں پڑھتا تو وہ منافق ہے۔مگر وہ لوگ جو اپنے بچوں کو نماز یا جماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے وہ ان کے خونی اور قاتل ہیں۔اگر ماں باپ بچوں کو نماز با جماعت کی عادت ڈالیں۔تو کبھی ان پر ایسا وقت نہیں آسکتا کہ یہ کہا جا سکے کہ ان کی اصلاح نا ممکن ہے اور وہ قابل علاج نہیں رہے۔دوسری بات جو ان کی تربیت میں نقص ڈالنے والی ہے وہ یہ ہے کہ بے جا محبت کی وجہ سے بچوں کے بے جا آرام و آسائش کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کو سختی اور مشقت کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔جب بچے کھیلنے کودنے کے لئے سخت گرمی اور دھوپ میں ننگے سر ننگے پاؤں نکل جاتے ہیں۔یا سردی میں پھرتے رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نماز با جماعت پڑھانا ان پر سختی اور مشقت تصویر کی جائے۔اگر اپنی ضرورتوں کے لئے وہ نہ گرمی کی پرواہ کرتے ہیں نہ سردی کی اور اس میں کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتے تو نماز با جماعت میں ان کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے۔غرض بچوں میں برداشت اور جفاکشی کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔آج کل بہت سے اس قسم کے سامان پیدا ہو گئے ہیں جو بچوں میں محنت اور جفا کشی کی روح کو فنا کرنے والے ہیں۔اور عام طور پر سکولوں میں ایسے ناز و نخرے کے سامانوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلاً سر کے اگلے حصہ میں خاص صورت کے لمبے بال رکھنا۔اس قسم کے ناز و نخروں کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں خوبصورت سمجھا جائے۔ہم سے لوگ پیار کریں۔یہ بالکل زنانہ خصلتیں ہیں اور میں نے دیکھا ہے ہمیشہ ایسے لڑکوں کی چال ، ان کا لب ولہجہ، ان کی گفتگو بالکل زنانہ طرز پر ہوتی ہے۔پس کھانے پینے میں۔لباس میں۔بچوں کو نازو نخرے میں نہ ڈالنا چاہیے۔میرے نزدیک بچوں کے لئے گوشت کھانے کی کثرت بھی ان کے عدم استقلال کا موجب ہو جاتی ہے۔کیونکہ ان کی ہڈیاں ابھی کمزور ہی ہوتی ہیں کہ ضرورت سے پہلے ان کے اعضاء تناسل