خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 153

153 دونوں قسم کے بچوں سے نہ ملے۔جس بچے کو گھر بند رکھا جائے اور کسی سے نہ ملنے دیا جائے وہ پچاس برس کی عمر میں بھی لڑکا ہی رہے گا۔کیونکہ اس کی مثال اس کانچ کے برتن کی سی ہو گی جسے ذرا ٹھوکر لگی اور وہ ٹوٹ گیا جب بھی کوئی بدی اس کے سامنے آئے گی۔وہ مقابلہ نہیں کر سکے گا۔لیکن اگر وہ لوگوں سے ملتا رہے تو اس کے اندر شناخت پیدا ہو جاتی ہے کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔اور بدی سے بچنے کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے جن بچوں کی ہمیشہ سختی کے ساتھ نگہداشت کی جاتی ہے وہ بہت کمزور ہوتے ہیں۔اور وہ اگر نیکی بھی کرتے ہیں تو عادت کے ماتحت نہ کہ بدی کے مقابلہ کی طاقت کی وجہ سے یہی وجہ ہے کہ بدی کے پیش ہونے پر بہت جلد اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جن کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور کسی قسم کی نگرانی نہیں کی جاتی۔ان کی مثال ان بھیڑوں کی ہے جنہیں بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیا جائے۔اگر وہ بد اخلاقی سے بچے رہیں۔یا ان کی کسی طرح اصلاح ہو جائے۔تو اس میں ان کے ماں باپ کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔لیکن اگر وہ تباہ ہو جائیں اور ان کے اخلاق برباد ہو جائیں تو اس کے ذمہ دار ماں باپ ہوتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی سے غفلت کی اور اپنی اولاد کی کچھ نگرانی نہ کی۔غرض بچوں کے اخلاق کی درستی میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔نہ تو اتنی تنگی کرنی چاہیے کہ وہ کسی سے مل ہی نہ سکیں اور نہ اتنی آزادی دینی چاہیے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں اور ان کی کوئی نگہداشت نہ کی جائے۔بچے عام طور پر اخلاق ماں باپ سے نہیں سیکھتے بلکہ زیادہ تر اخلاق دوسرے بچوں۔سیکھتے ہیں۔مگر ماں باپ کا یہ پتہ لگاتے رہنا فرض ہے کہ بچے کیا سیکھ رہے ہیں۔اور یہ کوئی مشکل بات نہیں کیونکہ بچے جو کچھ دوسروں سے سیکھتے ہیں وہ جھٹ ماں باپ کے سامنے بھی کرنے لگ جاتے ہیں اس طرح ان کے عیوب کا فورا پتہ لگ جاتا ہے۔اگر ماں باپ عمدگی سے ان کی اصلاح کرنی چاہیں تو بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔لیکن بہت ہیں جو بچے کی ایسی حرکات پر کہ جو نا پسندیدہ ہوتی ہیں۔پیار اور محبت کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اگر ایک آدھ دفعہ کہہ بھی دیا تو پھر خیال نہیں رکھتے۔اور بہت سے ایسے ہیں کہ اگر ان کو ان کے بچوں کے عیب بتلائے جائیں تو وہ لڑنے لگ جاتے اور خوامخواہ اپنے بچے کی تائید کرنے لگ جاتے ہیں۔اور بعض اوقات بچوں کی لڑائی کی وجہ سے بڑوں میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔تو سب سے پہلی اور نہایت ضروری بات یہ ہے کہ ماں باپ بچوں سے ناجائز محبت نہ کریں۔اگر کوئی ان کے بچے کے متعلق شکایت کرے تو اس کی اصلاح کی 9