خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 124

124 انہیں معزول کر کے ان کے ایسے رشتہ داروں کو ان کی جگہ رکھا جا رہا ہے جو عیسائی ہو چکے ہیں۔اصل حقیقت یہ تھی لیکن عیسائی مشنری یہ کہہ رہے تھے کہ وہاں اسلام بڑی سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے۔یہی حال ایسٹ افریقہ کا بھی تھا۔وہاں بھی لوگ کثرت کے ساتھ عیسائی ہو رہے تھے اور گورنمنٹ بھی اس کام میں عیسائیوں کا ساتھ دیتی اور عیسائی نہ ہونے والوں کو تکالیف دی جاتی تھیں۔یہ نہیں کہ گورنمنٹ بحیثیت گورنمنٹ ان پر کوئی سختی کرتی تھی بلکہ گورنمنٹ کے وہ افسر جو پکے عیسائی تھے وہ عیسائیت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش میں اپنے ماتحتوں پر سختی کرتے اور عیسائی مبلغوں کو ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچاتے تھے۔اور ایسا عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ جس علاقہ کے اعلیٰ افسران جس مذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہ ضرور اپنے ہم مذہبوں کو فائدہ پہنچانے اور ان کے رستہ سے تمام قسم کی تکالیف دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور ان کے ماتحت بھی انہیں خوش کرنے کے لئے اپنے عقائد تک سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔ہندوستان کو ہی دیکھ لو یہاں کے لوگ افریقہ کے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں۔لیکن یہاں پر بھی ایسے واقعات پائے جاتے ہیں۔جب اس ملک میں جہاں کے لوگ ایک حد تک تعلیم یافتہ بھی ہیں یہ حال ہے تو ایک غیر مہذب اور تعلیم سے بے بہرہ ملک کا کیا حال ہو گا۔جہاں کے لوگ سخت وحشی اور جاہل ہیں۔یہاں تک کہ وہ کپڑے بھی نہیں پہنتے۔افریقہ کے دیہاتی لوگ ابھی تک کپڑے نہیں پہنتے۔جب وہ شہر میں کسی کام کے واسطے جاتے ہیں تو مجبور اتہ بند باندھ لیتے ہیں۔کیونکہ انہیں سزا کا خوف ہوتا ہے۔لیکن شہر سے باہر نکل کر تہ بند اتار کر کندھے پر ڈال لیتے ہیں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں ہمیں کپڑا باندھ کر اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ایسے لوگ حکام کے اثر سے جس قدر موثر ہو سکتے ہیں وہ ظاہر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک گورداسپور کے ہی اعلیٰ افسر کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔وہ ای اے سی تھا اور وہابی عقیدہ کا تھا۔ان ایام میں وہابیوں کے متعلق گورنمنٹ کو کچھ شبہات تھے۔ان ڈپٹی صاحب کے متعلق کسی نے ڈپٹی کمشنر سے جا کر رپورٹ کر دی کہ فلاں شخص وہابی ہے۔اس پر ڈپٹی کمشنر نے ان کو بلا کر پوچھا مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ آپ وہابی ہیں۔میں تو آپ کے متعلق ایسا خیال نہیں کرتا۔اس پر انہوں نے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے میں ہرگز وہابی نہیں ہوں۔میرے متعلق آپ کے پاس کسی نے غلط رپورٹ کی ہے۔اس وقت کے وہابیوں اور دوسرے لوگوں میں بڑا امتیاز یہ تھا کہ وہابی کنچنبیوں وغیرہ کے نچوانے کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ان ڈپٹی صاحب نے ڈپٹی کمشنر کے