خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 93

93 چنانچہ میں نے شلوار بنوائی۔مجھے خوب یاد ہے جب پہن کر میں گھر سے باہر آیا تو میں نہیں سمجھتا کوئی چور یا ڈاکو بھی کوئی واردات کر کے اتنی ندامت اور شرمندگی محسوس کرتا ہو گا جتنی کہ مجھے اس وقت شلوار پہننے سے محسوس ہوئی۔میں آنکھیں نیچی کئے ہوئے بمشکل اس مکان تک جو پہلے شفا خانہ تھا اور جس میں اس وقت ڈاکٹر عبداللہ صاحب بیٹھا کرتے تھے آیا۔بھائی عبدالرحیم صاحب اور بعض دوسرے استادوں نے اس بات کی تائید بھی کی کہ شلوار اچھی لگتی ہے۔مگر مجھے اتنی شرم آئی کہ واپس جا کر میں نے اسے اتار دیا۔اب میں شلوار ہی پہنتا ہوں مگر اس کی عادت آہستہ آہستہ ہوئی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی میں دوسری قسم کا پاجامہ بدلوں تو گو اتنی شرم تو مجھے نہ آئے جتنی اس وقت آئی تھی۔لیکن کچھ نہ کچھ طبیعت میں بے اطمینانی ضرور ہو۔پس اگر عادت کے خلاف ایک شلوار پہن کر جس کا عبادات یا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔طبیعت میں قبض اور بے اطمینانی پیدا ہو سکتی ہے۔تو یہ کوئی بڑے تعجب کی بات نہیں۔اگر میرے اس خطبہ پر بھی بعض لوگوں کو اچنبھا معلوم ہو۔میں نے اپنے اس خطبہ میں دو قسم کے لوگوں کے خلاف خیالات کا اظہار کیا تھا۔ایک تو وہ جو روزوں کی اتنی پابندی کرتے ہیں جو دیوانگی کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔اور ایک ان کے خلاف جو معمولی معمولی حیلوں بہانوں سے بھی روزہ سے بچنا چاہتے ہیں۔مگر مجھے افسوس ہے کہ میرے اس خطبہ کے متعلق بے اطمینانی کا اظہار صرف انہی لوگوں نے کیا ہے جو روزہ کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔لیکن دوسرا فریق جو معمولی معمولی عذروں کی بناء پر روزہ سے بچنا چاہتا ہے اس نے کوئی شکایت نہیں کی۔اور خاموشی اختیار کی ہے۔جنہوں نے اعتراض کیا ہے۔مجھے ان کے اعتراض کرنے پر خوشی ہوئی ہے۔کیونکہ اس میں ان کی غیرت دینی اور جوش ایمانی پایا جاتا ہے۔مگر افسوس ہے دوسروں پر کہ ان کے اندر کوئی جوش اور غیرت پیدا نہ ہوئی۔اگر ان کی طرف سے یہی اعتراض کیا جاتا تو میں امید کرتا کہ ان کے اندر بھی ایسے لوگ ہیں جو غیرت اور جوش رکھتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان میں سے بھی کوئی ایسی جماعت پیدا ہو جائے گی جو معمولی عذروں پر شریعت کے احکام کو ٹالنے کی کوشش نہیں کرے گی۔لیکن ان کی خاموشی بتاتی ہے کہ وہ روزہ کے متعلق بے حس ہو چکے ہیں۔مگر اثر دونوں فریقوں پر ہوا ہے۔جو لوگ سختی کے ساتھ روزوں کی پابندی کے عادی تھے انہوں نے تو یہ سمجھا کہ ان سے دین اور شریعت کی بنیاد ہل گئی۔اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو روزہ سے بچانا چاہتے تھے انہوں نے کہا اچھا ہوا روزہ نہ رکھنے کی اجازت مل گئی۔