خطبات محمود (جلد 9) — Page 89
89 رکھوائے جائیں اور وہ بھی آہستگی کے ساتھ پہلے سال جتنے رکھیں دوسرے سال اس سے کچھ زیادہ اور تیسرے سال اس سے زیادہ رکھوائے جائیں۔اس طرح بتدریج اس وقت ان کو روزہ کا عادی بنایا جائے۔اس کے مقابلے میں میرے نزدیک ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ کو بالکل معمولی حکم تصور کرتے ہیں۔اور چھوٹی چھوٹی وجہ کی بناء پر روزہ ترک کر دیتے ہیں۔بلکہ اس خیال سے بھی کہ ہم بیمار ہو جائیں گے روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔حالانکہ یہ کوئی عذر نہیں کہ آدمی خیال کرے میں بیمار ہو جاؤں گا۔میں نے تو آج تک کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو یہ کہہ سکے کہ میں بیمار نہیں ہونگا۔پس بیماری کا خیال روزے ترک کرنے کی جائز وجہ نہیں ہو سکتی۔پھر بعض اس عذر پر روزہ نہیں رکھتے کہ انہیں بہت بھوک لگتی ہے۔حالانکہ کون نہیں جانتا کہ روزہ رکھنے سے بھوک لگتی ہے۔جو روزہ رکھے گا اس کو ضرور بھوک لگے گی۔روزہ تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ بھوک لگے اور انسان اس کو برداشت کرے۔جب روزہ کی یہ غرض ہے تو پھر بھوک کا سوال کیسا۔پھر کئی ہیں جو ضعف ہو جانے کے خیال سے روزہ نہیں رکھتے۔حالانکہ کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جس کو روزہ رکھنے سے ضعف نہ ہوتا ہو۔جب وہ کھانا پینا چھوڑ دے گا تو ضرور ضعف بھی ہو گا اور ایسا آدمی کوئی نہیں ملے گا جو روزہ رکھے اور اسے ضعف نہ ہو۔بلکہ اس کے اندر طاقت اور قوت پیدا ہو جائے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو یہ نشان بطور اعجاز عطا ہو۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چھ مہینے متواتر روزے رکھے اور دو تین تولے سے زیادہ آپ کی غذا نہ ہوتی تھی۔مگر اپ کو کوئی ضعف نہ ہوا۔بلکہ معجزانہ طور پر اس سے آپ کو طاقت اور قوت حاصل ہوئی۔اس معجزانہ حالت سے الگ ہو کر کوئی آدمی ہمیں ایسا نظر نہیں آتا جسے روزے سے ضعف نہ ہو۔اس لئے اس وجہ سے بھی روزہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔روزہ ایسی حالت میں ہی ترک کیا جا سکتا ہے کہ آدمی بیمار ہو اور وہ بیماری بھی اس قسم کی ہو کہ اس میں روزہ رکھنا مضر ہو۔کیونکہ شریعت کے احکام بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔مثلاً ایک بیمار کے لئے اجازت ہے کہ وہ تمیم کرے۔لیکن کسی کو بیماری اس قسم کی ہو کہ وضو کرنا اسے کوئی نقصان نہ دیتا ہو۔بلکہ اس بیماری میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرے تو اسے فائدہ ہوتا ہو۔تو باوجود بیمار ہونے کے اس کے لئے تیمم جائز نہیں ہو گا۔اسی طرح وہ بیماری کہ جس پر روزے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اس کی وجہ سے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہو گا۔بیماری سے مراد وہی بیماری ہو گی جس کا