خطبات محمود (جلد 9) — Page 82
82 12 رمضان المبارک کے متعلق ہدایات (فرموده ۳ اپریل ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : رمضان کا مہینہ اپنے اندر ایسے فوائد رکھتا ہے اور وہ ایسی برکات اپنے ہمراہ لے کر آتا ہے کہ ان برکتوں کے سمجھنے والے بہت بڑے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن تمام کے تمام لوگ ایک جیسے ایک مرتبہ اور ایک ہی حیثیت کے نہیں ہوتے۔کئی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں۔جن کی حسیں بہت موٹی ہوتی ہیں اور وہ اپنے احساسات کے بہت کند اور موٹا ہونے کی وجہ سے چیزوں کی ماہیت اور ان کے باریک در بار یک اثرات پوری طرح محسوس نہیں کر سکتے اور کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی حسیں بہت تیز ہوتی ہیں اور وہ اپنی تیزئی جس کی وجہ سے باریک در باریک حرکات کے اثرات کو بھی محسوس کر لیتے ہیں۔اس وجہ سے تمام کے تمام انسانوں سے ہم یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ وہ ہر ایک چیز کے اثرات اور فوائد کو مساوی اور برابر محسوس کریں۔کیونکہ جب ان کی حسیں مختلف ہیں تو وہ چیزوں کے اثرات کو یکساں کس طرح محسوس اور معلوم کر سکتے ہیں۔اور جب احساسات کا ایسا اختلاف ہے کہ بعض لوگ ایک چیز کے اثر کو اپنی حس کی تیزی کی وجہ سے محسوس کرتے ہیں۔اور بعض اپنے احساسات کے کند اور موٹے ہونے کے باعث مادی چیزوں کے اثرات کو بھی نہیں محسوس کر سکتے یا کم محسوس کرتے ہیں۔تو پھر تمام انسانوں سے یہ امید کس طرح کی جا سکتی ہے کہ وہ عبادات کے اثرات کو بھی یکساں پوری طرح محسوس کریں۔دنیا کی نہایت موٹی اور مادی چیزیں جن کے اثرات نہایت ظاہر اور نمایاں ہوتے ہیں۔ان کو محسوس اور معلوم کرنے کے متعلق جب ہم بنی نوع انسان کے اختلاف تفاوت اور مدارج کو دیکھیں تو حیرت آتی ہے۔مثلاً ایک آدمی ہمیں اس قسم کا نظر آتا ہے جو ایک برفانی علاقہ سے گزرتا ہے اور