خطبات محمود (جلد 9) — Page 71
71 گورنمنٹ پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔بے شک بظاہر ہمارا اپنی جگہ صدائے احتجاج بلند کرنا افغانی گورنمنٹ پر کوئی اثر نہیں رکھتا اور نہ اس سے ہمارے ان مظلوم بھائیوں کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔لیکن یہ یاد رہے کہ نہ تو دنیا میں ہر ایک چیز بلا واسطہ اثر کرتی ہے اور نہ ہی ہر ایک چیز بالواسطہ اپنا اثر ڈالتی ہے۔بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو اپنے اثر کے لئے اپنے ساتھ کوئی ذرائع نہیں رکھتیں بلکہ بلاواسطہ اثر کرتی ہیں۔اور بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بلاواسطہ کوئی اثر نہیں کرتیں۔بلکہ ان کا فائدہ تب ہی ظاہر ہوتا ہے اور ان کا استعمال تبھی موثر ہو سکتا ہے جبکہ وہ بالواسطہ ہو۔اب میں بتلاتا ہوں کہ ان ذرائع میں سے سب سے مقدم ذریعہ صدائے احتجاج ہی ہے۔جو جماعت احمدیہ کی طرف بلند کی گئی اور اس کے تین فائدے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ براہ راست اس کا گورنمنٹ کابل پر کوئی ایسا اثر نہیں ہو سکتا جس سے ہمارے مظلوم بھائیوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکے۔ہماری یہ آواز ایک محدود آواز ہے جس کا براہ راست کوئی بڑا اثر نہیں۔لیکن جس طرح بعض لوگوں نے اس کو بالکل بے فائدہ سمجھا ہے وہ ایسی بے فائدہ بھی نہیں ہے۔بلکہ اس کے اندر فوائد ہیں جو ظاہر ہوئے بھی ہیں اور خدا کے فضل سے امید سے بہت بڑھ کر ظاہر ہوں گے بھی۔پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ کسی زندہ قوم میں اس کی زندگی کی طاقت کو قائم رکھنے اور اس کے احساسات اور عمدہ جذبات کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کے لئے بار بار اور متواتر اس کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں اس کے سامنے پیش کی جائیں۔اس وقت سے کہ ہم نے مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت پر جس قدر صدائے احتجاج بلند کی اس کا یہ اثر ہوا ہے کہ نہ صرف ہماری جماعت کے لوگوں کے احساسات اور جذبات میں نئی زندگی پیدا ہو گئی ہے بلکہ بعض وہ لوگ جو ہمارے کیا اسلام کے بھی سخت دشمن ہیں۔وہ بھی ہمارے اس صدائے احتجاج بلند کرنے سے متاثر ہوئے ہیں۔اور چونکہ بعض طبیعتیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ان کے احساسات اور جذبات سخت سے سخت واقعہ پر بھی جوش میں نہیں آتے اور ایسے واقعہ سے جو ہوا اور گزر گیا ایسی متاثر نہیں ہوتیں کہ ان کے اندر کوئی خاص جوش اور احساس پیدا ہو۔اس لئے اس قسم کی طبیعتوں کے اندر جوش پیدا کرنے اور ان کے احساسات کو ابھارنے کے لئے اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے سامنے متواتر اور بار بار اس واقعہ کو پیش کیا جائے اور ان کا فرض اور ان کی ذمہ داری ان کو یاد دلائی جائے۔جب بار بار وہ واقعہ ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو پھر ان کے اندر بھی ایک جوش اور احساس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ بھی اس واقعہ سے متاثر ہونے لگ جاتی