خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 70

70 11 قربانی کرنے والوں کے متعلق جماعت کی ذمہ داری (فرموده ۲۷ مارچ ۱۹۲۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ر میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں شہیدان کابل کے متعلق ذکر کرتے ہوئے یہ بیان کیا تھا کہ دوسرے لوگوں نے ان مظلوموں کی مظلومیت پر کچھ کیا یا نہ کیا۔سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم نے کیا کیا اور مرکز میں ان کے متعلق کیا کوشش کی گئی اور سلسلے کی طرف سے اس واقعہ پر کیا کارروائی کی گئی۔لیکن قبل اس کے اس کے متعلق میں کچھ بیان کرتا۔اس مضمون کی تمہید ہی اتنی لمبی ہو گئی کہ وقت ختم ہو گیا اور اصل بات بیان کرنے سے رہ گئی۔آج میں اس حد تک کہ جس سے سلسلہ کے مفاد کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور اپنے ان بھائیوں کے مفاد کو بھی کوئی صدمہ نہ پہنچے جن پر افغانستان میں ہر طرح ظلم کیا جا رہا ہے اور وہ ہر طرح ستائے جا رہے ہیں۔یعنی میں سلسلہ کے مفاد کو نیز اپنے ان مظلوم بھائیوں کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے جو کچھ بیان کر سکتا ہوں۔اختصار کے طور پر بیان کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ مرکز اس معاملہ میں کیا کر سکتا ہے اور اس نے کیا کیا۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر ایک چیز گو وہ بظاہر معمولی بھی نظر آتی ہو۔لیکن ضرورت کے وقت اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ہماری کوشش اور سعی کے سلسلہ میں جو ہم نے اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے کی ہے۔سب سے پہلی چیز جس کو معمولی سمجھا گیا اور جو عام لوگوں کی نظروں میں ناواقفیت کی وجہ سے بے فائدہ قرار دی گئی وہ صدائے احتجاج ہے۔جو مرکزی جماعت قادیان اور دیگر بیرونی احمدی جماعتوں کی طرف سے بلند کی جا رہی ہے۔اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں اور ان کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارا اپنی جگہ اپنی جماعتوں میں صدائے احتجاج بلند کرنا کیا معنی رکھتا ہے اور اس سے ہمارے ان مظلوم بھائیوں کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یا ہماری اس کوشش کا افغانی