خطبات محمود (جلد 9) — Page 67
67 نقصان نہیں اٹھایا بلکہ بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے بڑی بڑی رقمیں مسلمانوں سے لئے ہوئے چندوں کی ہضم کرلیں اور وہ مالدار ہو گئے۔پس ایسی حالت میں جب کہ حکومت اور اختیار اس قسم کے ملانوں کے ہاتھ میں ہو۔ان کے آگے اپیل کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا اور ایسی حالت میں امیر امان اللہ خان صاحب کے پاس اپیل کرنا بھی فضول اور بے فائدہ ہے۔ان کی اپنی ضمیر ان کے سامنے ان مظالم کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔خود سردار محمود طرزی صاحب نے بمبئی میں مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کی خبر سن کر بہت افسوس کیا اور کہا کہ میں جاکر اس قسم کے مظالم کا انسداد کروں گا۔لیکن وہ بھی وہاں پہنچ کر ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد کے مصداق ہو گئے۔کیونکہ وہاں جا کر ان کو محسوس ہوا کہ اگر ہم ان مظالم کے انسداد کی کوشش کریں گے تو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔اس لئے وہ بھی خاموش ہو گئے۔پس وہ مجرم ہیں۔مگر بے بس مجرم ہیں۔رسول کریم کے وقت نجاشی ۲ کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔مگر اس نے جرات سے کام لیا تھا۔چنانچہ رسول کریم اللہ کے صحابہ نے جب ابی سینیا میں جا کر پناہ لی تو مکہ سے کفار کا ایک وفد نجاشی کے پاس پہنچا اور کہا ہم اپنے ملک کی پارلیمنٹ کی طرف سے آئے ہیں تا کہ ہمارے آدمی جو آپ کے ملک میں بھاگ آئے ہیں ان کو واپس لے جائیں۔آخر کئی دنوں کی گفتگو کے بعد نجاشی پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ ظالم ہیں اور مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں۔اس لئے اس نے مسلمانوں کو ان کے ساتھ بھیجنے سے انکار کر دیا۔چونکہ اس وفد نے عام عیسائیوں اور پادریوں کو مسلمانوں کے خلاف یہ کہہ کر بہت مشتعل کر دیا تھا کہ یہ لوگ حضرت عیسی کی شان گھٹاتے اور اس کی ہتک کرتے ہیں۔تم کیوں پناہ دیتے ہو۔ان کو ضرور ان کے حوالہ کرنا چاہیے۔اور سب کے سب درباری بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ امیر کابل کی مشکلات نجاشی کے مقابلہ میں بہت ہی ادنیٰ اور بہت ہی حقیر ہیں۔کیونکہ نجاشی کی حکومت کی حالت اس وقت امیر کی بادشاہت سے بہت زیادہ بدتر تھی۔امیر کے ساتھ تو اس کے کچھ ہم خیال لوگ بھی ہیں۔لیکن نجاشی کے تو سب کے سب مخالف ہو گئے تھے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح امیر کابل کو حکومت ملی ہے اس طرح نجاشی کو بھی ملی تھی۔جس طرح امیر کا چا ملک پر حکومت کرنا چاہتا تھا اور پھر امیر کو حکومت مل گئی اسی طرح نجاشی کا چھا بھی ملک پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔اور پھر نجاشی کو حکومت مل گئی مگر افسوس کہ ایک عیسائی نے تو یہ جرات دکھلائی کہ اس قدر مخالفت کے باوجود ایک تنکا اٹھایا اور کہا جو کچھ مسلمانوں نے حضرت عیسی کے حق میں بیان کیا ہے میں حضرت عیسی کو اس سے زیادہ اس تنکے کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔تم یاد رکھو کہ خدا نے مجھے بادشاہ بنایا ہے تم نے میرے چچا کے وقت میرا