خطبات محمود (جلد 9) — Page 1
1 1 سال رواں میں ہمارا نصب العین (فرموده ۲ جنوری ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : جلسہ آیا اور گزر بھی چکا اب نیا سال شروع ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے اور اس کی غریب نوازی ہے کہ اس نے دیگر سالوں کی طرح پچھلے سال کو بھی ہماری ترقیوں اور کامیابیوں کا باعث بنایا اور اپنے دین اسلام کی اشاعت اور خدمت کی ہمیں توفیق عطا فرمائی۔ہماری قوم کا جو حال ہے اور جو حیثیت ہے خدا کا فضل اس سے بہت بڑھ چڑھ کر ہم پر ہوا۔دنیا دار دینوی طور پر جس کشمکش میں پڑے ہوئے ہیں اور مال والے جن دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ریاستوں اور رتبوں اور شان والے جن جن مصائب میں گرفتار ہیں ان کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو کچھ ہوا وہ ہماری کسی کوشش سے ہوا۔اگر وہ کام جو پچھلے سال ہوئے وہ ہماری عقل اور دانش کا نتیجہ ہوتے تو ہم سے بڑھ چڑھ کر عقل رکھنے والے دنیا میں موجود ہیں۔ان سے وہ خدمت اسلام اور اعلاء کلمتہ اللہ کا کام کیوں نہ ہو سکا اور اگر ہمارے علم و فضل کا نتیجہ ہوتے تو دنیا میں ہم سے بہت بڑھ کر عالم اور فاضل موجود ہیں اور اگر وہ کام جو پچھلے سال ہوئے وہ ہمارے روپے پیسے کا نتیجہ ہوتے تو دنیا میں ہم سے بہت زیادہ مال و دولت رکھنے والے بھی موجود تھے۔بلکہ ہم تو غریب ہیں اور ہمارے مال اس فضل کے مقابلہ میں جو ہم پر ہوا کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ جو کچھ ترقی اور کامیابی ہمیں ہوئی وہ ہمارے کسی رتبہ اور شان کی وجہ سے ہوئی۔تو کیا وجہ ہے کہ ہم سے بہت زیادہ رہتے اور شان رکھنے والے تو دنیا میں موجود ہیں مگر ان سے وہ کام اور خدمت نہ ہو سکی۔غرض ہر ایک چیز میں دوسرے لوگ ہم سے بہت زیادہ وافر حصہ رکھتے ہیں۔اس لئے جو کچھ بھی ہوا محض خدا تعالیٰ کے