خطبات محمود (جلد 9) — Page 46
46 8 انفاق فی سبیل اللہ اور قومی و انفرادی ترقی کے حصول کے ذرائع (فرموده ۶ مارچ ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : آج سے تین ہفتہ پہلے میں نے ایک چندے کی تحریک کی تھی۔جس میں خدا کے فضل سے بہت کامیابی ہوئی ہے اور جماعت کے مخلصین نے بڑی گرم جوشی سے اسے قبول کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جس قدر روپیہ کا استعمال اس زمانہ میں ہوتا ہے۔پہلے زمانہ میں نہیں ہو تا تھا۔پہلے تو ایک گھر جس کے لوگ کھدر بنتے تھے وہ اتنا بنتے تھے کہ ان کی گھر کی ضروریات سے بچ رہتا تھا اور روپے کی بجائے وہ بقیہ کھدر کے بدلے کچھ اور سامان لے لیتے تھے۔کھانے پینے کا سامان لے لیا۔جوتے لے لئے یا لکڑی اور لوہے کا سامان لے لیا۔اس وجہ سے پرانے زمانہ میں اس قدر مال کی احتیاج نہ تھی جتنی کہ آج کل ہے۔آج کل تو ہر ایک چیز کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔گو مالی احتیاج سب لوگوں کی ہی بڑھی ہوئی ہے۔مگر ہماری جماعت کے لوگوں کے لئے سب سے زیادہ ہے۔کیونکہ ہماری جماعت کے لوگ عام طور پر غرباء ہیں اور پھر غرباء بھی مظلوم غرباء - ہندوستان میں ہمارے دشمن ہماری جماعت کو جو نقصان پہنچاتے ہیں وہ بھی زیادہ تر مالی حالت پر ہی اثر ڈالتا ہے۔چونکہ زیادہ حصہ ہماری جماعت کا ہندوستان میں پایا جاتا ہے۔اس لئے ہمارے دشمن گورنمنٹ انگریزی کی حکومت میں ایسا طریقہ ظلم تو ہماری جماعت کے لوگوں کے ساتھ نہیں برت سکتے جس کی وجہ سے گورنمنٹ کی گرفت میں