خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 396

396 کرتے بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمیں تکلیف کسی طرح کم ہوتی ہے۔حالانکہ دیکھنا یہ چاہئے کہ نقصان کس طرح کم ہوتا ہے۔پس ان کو چاہئے کہ وہ ایسے موقعوں پر تکلیف تو برداشت کر لیں بلکہ اگر کوئی ہتک آمیز سلوک بھی ہو تو بھی سہہ لیں لیکن کوئی ایسی بات نہ کریں جن سے نقصان ہو اور پریشانی پھیلے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ وہ ہر طریق سے اس بات کی کوشش کریں گے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے نقصان ہو اور مالی تنگی اور بھی بڑھے۔پھر میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ علاوہ ان باتوں کے وہ آنے والوں کے ساتھ اخلاق اور محبت سے پیش آئیں گے۔کیونکہ میزبانی خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔خدا کی محبت ا کرنے کا ذریعہ ہے۔ایمان کے بڑھانے کا ذریعہ ہے۔صوفیاء لکھتے ہیں ہر انسان خدا کا مہمان ہے اور بعض نے تو اس بات میں اتنا غلو کیا ہے کہ جو اس مقام پر پہنچ جائے کہ اسے یہ نظر آجائے کہ خدا میزبان ہے اور ہم اس کے مہمان۔تو وہ کسب معیشت کو ترک کر دے۔محی الدین ابن عربی کے ایک استاد تھے۔وہ کسب معیشت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک دن ایک شخص نے کہا کہ حضرت آپ اتنے بزرگ ہیں لیکن کسب معیشت نہیں کرتے حالانکہ معیشت کے سامان مہیا کرنا فرض ہے۔فرمانے لگے ہم خدا کے مہمان ہیں اور یہ اس کی ہتک ہے کہ ہم اس کے مہمان ہو کر خود کھانا پینے کا انتظام کریں۔اس شخص نے کہا۔حدیث میں آیا ہے کہ مہمان تین دن کے لئے ہوتا ہے۔اس پر انہوں نے فرمایا۔بے شک یہ دن اگر ہوتے۔تو ہماری مہمانی ختم ہو جاتی لیکن خدا کے ہاں دس ہزار سال بلکہ پچاس ہزار سال کا دن ہے۔جب میری عمر ڈیڑھ لاکھ برس کی ہو جائے گی تو اعتراض کرنا۔میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی حیثیت میزبان کی اور انسان کی حیثیت مہمان کی قرار دی ہے۔پس میزبانی معمولی چیز نہیں۔بلکہ بہت اعلیٰ شے ہے اور اس لئے اعلیٰ ہے کہ اس میں خدا کی صفت کی جھلک ہے کیونکہ خدا بھی میزبان ہے۔اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ میرے بندے نے جب اپنے محدود سامانوں سے میزبانی کی ہے تو میں جو کہ غیر محدود سامانوں والا ہوں۔میں کیوں نہ اس کی میزبانی کروں۔پس یہ ایک نہایت اعلیٰ اور عمدہ شے ہے۔جس سے خدا مہربان ہوتا ہے اور اس کی رحمت جوش میں آتی ہے۔اس لئے میں قادیان والوں کو اور خاص کر جلسہ میں کام کرنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پورے طور پر میزبان بنیں اور خدمت اور تواضع کے علاوہ محبت اور اخلاق سے آنے والوں کے ساتھ پیش آئیں۔