خطبات محمود (جلد 9) — Page 370
370 نے اب یہ بات کہی ہے کہ خلافت کمیٹیوں نے احمدیوں کی مدد کی ہے۔پھر اور بھی بہت سے واقعات ہیں جو اس قسم کے امور کو روشنی میں لا رہے ہیں مگر باوجود اس کے ہم پھر بھی یہی کہتے ہیں کہ شرک کے مٹانے کے لئے اگر یہ لوگ کسی جائز طریق کو اختیار کریں تو ہم ان کی مدد کریں گے۔میں نے الفضل میں پچھلے دنوں ایک سلسلہ مضامین شروع کیا تھا۔مجھے یاد نہیں کہ ان میں سے کسی میں میں نے لکھا یا نہیں لکھا۔مگر میرا خیال تھا کہ میں اس بات کو ظاہر کر دوں کہ ابن سعود سے ہمیں زیادہ قرب ہے۔میں جب مکہ میں گیا تو اس گروہ کے آدمیوں سے ملا تھا۔وہ شہری طرز کے ہیں اور بہ نسبت دوسرے لوگوں کے ان کی باتیں زیادہ سنجیدہ تھیں۔وہ بات کو نہایت معقول رنگ میں بیان کرتے تھے۔یہ غلط ہے کہ وہ حنبلی ہیں انہوں نے بتایا عبدالوہاب پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ حنبلی ہیں۔حالانکہ اس کی تردید کی گئی ہے۔اس پر میں نے پوچھا کہ آپ لوگ پھر حنبلی کیوں کہلاتے ہیں۔کہنے لگے چونکہ لوگ یہاں ہماری مخالفت کرتے ہیں۔اس لئے مجبوراً حنبلی کہلانا پڑتا ہے۔ہمارے بعض استاد خیلی تھے اور بعض شافعی اس لئے بھی ہم حنبلی کہلاتے ہیں۔وہابیوں میں چونکہ جوش زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے وہ ایسی باتوں کو جو شرک کے منافی ہوں جلدی مان لیتے ہیں۔اس ملک میں بھی اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہابیوں میں سے ہماری جماعت میں زیادہ آدمی آئے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ پچاس ساٹھ فیصد آئے ہیں بلکہ اپنی تعداد کی نسبت سے زیادہ آئے ہیں۔حنفیوں کی تعداد ان سے زیادہ ہے۔اس لئے ان کی تعداد کے لحاظ سے دیکھنا ہو گا کہ کون زیادہ آیا۔سو جتنی ان کی تعداد ہے اس کے لحاظ سے وہ ان سے زیادہ ہماری جماعت میں آئے ہیں جتنے حنفیوں کی تعداد کے لحاظ سے حنفیوں میں سے آئے۔وہ حنفیوں کے مقابلہ میں تھوڑے ہیں۔اس لئے بظاہر وہ تھوڑے نظر آتے ہیں۔مگر تناسب کے لحاظ سے زیادہ آئے ہیں۔پس اہل حدیث میں تبلیغ کا کام ہمارے لئے آسان ہے۔اگر وہ اس ملک میں قائم ہو جائیں۔تو ہمارے لئے آسانی ہو سکتی ہے کہ ہم ان کو جلدی احمدی بنا سکتے ہیں اور شرک کی باقی ماندہ کڑی جو کہ وہابیوں سے نہ ٹوٹ سکی وہ بھی ٹوٹ سکتی ہے۔پس اگر وہ قائم ہو جائیں اور احمدیوں کو اس بات کا موقع مل جائے کہ وہ اپنی موحدانہ تعلیم وہاں پھیلا سکیں۔تو بہت جلد وہ لوگ ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور اگر سعودی وہاں عدل اور انصاف سے کام لیں گے تو اس میں ان کا بھی بھلا ہو گا کہ وہ ترقی بھی پائیں گے اور دوسروں کا بھی کہ انہیں آرام حاصل ہو گا۔