خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 350

350 کر مہمان بھی سستی کرنے لگ جاتے ہیں۔پس تم مستی چھوڑ دو تاکہ تمہیں سستی کرتے دیکھ کر باہر سے آنے والے بھی سستی نہ کر سکیں۔لیکن اگر تم مستی ترک نہیں کرتے تو یاد رکھو کہ دو ہرا وبال تم پر پڑے گا۔ایک تو تمہاری اپنی سستی کا اور دوسرے ان لوگوں کا کہ جن کی مستیوں کے لئے تمھاری ستیاں موجب ہوں گی۔پس تم ان سے بچو۔تاکہ تم خدا کی رحمت کے پانے والے بن سکو۔ہماری یہاں کی تعداد کے لحاظ سے ایک ہزار کے قریب آدمی مسجدوں میں ہر نماز میں آنے چاہئیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر لوگ نہیں آتے۔عشاء کو زیادہ سے زیادہ پچاس چھوٹی مسجد میں آجاتے ہیں اور بڑی مسجد میں چونکہ مدرسہ کے لڑکے بھی نماز پڑھنے جاتے ہیں اس لئے ملا جلا کر ایک سو پچاس کے قریب ہو جاتے ہیں۔اسی طرح اگر مختلف مسجدوں میں آنے والوں کو جمع کیا جائے تو چار پانچ سو کے قریب نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ پچاس فیصد لوگ نماز پڑھتے ہیں۔یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ پچاس فیصد نماز نہیں پڑھتے۔اور ستی کرکے منافق بن رہے ہیں۔اس حالت میں ایک ہی صورت رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ نگرانی کی جائے کہ کون آتا ہے اور کون نہیں آتا۔اور جو نہیں آتا اسے تنبیہ کی جائے اور اگر وہ اصلاح نہ کرے تو اسے علیحدہ کر دیا جائے۔پس یا تو سستی کرنے والے سستی ترک کر دیں اور باقاعدگی اختیار کریں اور نمازیں مسجدوں میں پڑھنے کی عادت ڈالیں یا پھر اس کئے ہوئے جسم کی طرح ہو جائیں جسے اکارت اور مضر سمجھ کر کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔روز روز کی تکلیف نہیں برداشت کی جاسکتی۔روز روز کے دکھ کی نسبت یہ بہتر ہے کہ ایک دفعہ کی تکلیف برداشت کرلی جائے اور ایسے لوگوں پر ایک دن رو کر یہ سمجھ لیں کہ وہ ہمارے نزدیک روحانی طور پر مر گئے ہیں۔گو میں بد دعا نہیں کرتا کہ ایسے لوگ مر جائیں بلکہ دعا کرتا ہوں کہ زندہ رہیں کیونکہ وہ یہاں زندہ رہنے کے لئے آئے ہیں۔مگر نہ میں نہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام اور نہ رسول کریم ﷺ ان کی روحانی زندگی کے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔جب تک کہ ابتدائی کوشش ان کی طرف سے نہ ہو۔زندہ رہنے کے لئے ابتداء ان کی طرف سے ہونی چاہئے۔پس میں پھر تاکید کرتا ہوں کہ اس کی ابتداء کرو تا ایسا نہ ہو کہ تمہاری یہ ستیاں تم پر سچ سچ کی موت لے آئیں۔