خطبات محمود (جلد 9) — Page 28
28 5 خوب محنت اور باہم تعاون کو اپنا شعار بنائیں (فرموده ۶ فروری ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں اپنے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچائیں۔اور ان خزانوں کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیئے ہیں اور ان نعمتوں کو جو اللہ تعالٰی نے ان کو بخشی ہیں بند کر کے زنگ الودہ نہ کریں اور جماعت کے لئے اور اشاعت سلسلہ میں بار نہ بنیں۔مگر جہاں میرا یہ فرض ہے کہ میں نے دوستوں کو اور احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ سکتے نہ رہا کریں۔کچھ کام کیا کریں اور یہ کہ سوال نہ کیا کریں اور نہ حالت سوال والی بنایا کریں کہ جس سے لوگ ان کو دکھ میں دیکھ کر مجبور ہو جائیں کہ ان کی مدد کریں۔بلکہ میرے نزدیک سوال کے دو اور پہلو بھی ہیں اور ان پر بھی روشنی ڈالنا میرا فرض ہے۔ایک پہلو تو یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ایک تو وہ ہوتے ہیں جو کہ وعظ اور نصیحت سے بات مان لیتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں کہ جو اپنی روحانیت میں اپنے اخلاق میں اور اپنی سمجھ میں اتنے گر گئے ہوتے ہیں کہ وعظ اور نصیحت ان پر کچھ اثر نہیں کرتی۔ان کے دل مردہ ہوتے ہیں یا دل تو نہیں مرے لیکن مدتوں ایسی حالت میں رہنے کی وجہ سے ان کی ہمتیں پست ہو جاتی ہیں۔استقلال طبیعت سے اٹھ جاتا ہے۔وہ نہایت گر جاتے ہیں ایسے لوگ وعظ اور نصائح سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔وہ اسی طرح بہت بڑی تربیت اور تہذیب اور تعلیم چاہتے ہیں جس طرح کہ چھوٹے بچے تربیت تہذیب اور تعلیم کے محتاج ہوتے ہیں۔ایک واعظ تو یہ کہہ کر آزاد ہو سکتا ہے کہ میں نے تو نصیحت کرنی تھی کر دی لیکن ماں باپ یا ایک تربیت کرنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے یہ بات اس کو کہدی تھی اور نصیحت کر دی تھی۔بچہ جھوٹ بولتا ہے تو ماں باپ یہ کہکر آزاد نہیں ہو سکتے کہ انہوں نے بچے کو کہدیا ہے کہ جھوٹ بری چیز ہے۔اگر بچہ چوری کرتا ہے تو ماں