خطبات محمود (جلد 9) — Page 290
290 سمجھتا ہے۔دیکھو مال کی خاطر کوئی جان نہیں دیتا بلکہ عزت کے لئے دیتا ہے۔اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ مال دے کر بچ جائے گا تو وہ مال دے دے گا مگر اس کی خاطر اپنی جان نہ دے گا جو لوگ مال کی خاطر لڑتے ہیں وہ اس لئے لڑتے ہیں کہ جانتے ہیں ذلت کی زندگی عزت کی موت سے ادتی ہے اور ظالم کے آگے سرجھکا دینا بے حیائی ہے۔اس لئے اگر انہیں جان بھی دینی پڑے تو وہ اس سے دریغ نہیں کرتے۔تو ایسے لوگ بھی عزت کے لئے ایسا کرتے ہیں۔پس اصل چیز عزت ہے۔عزت کے معنی ہیں غلبہ اور الزام سے بریت اور ایک شخص الزام سے بری اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے اور آخرت کی عزت بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتی۔پس جب تک ایمان نہیں۔تب تک کسی کی بھی عزت نہیں کیونکہ اگر خدا ہے اور اس کا قرب حاصل ہو سکتا ہے۔اگر ہم لوگوں کو خدا کی صفات میں سے حصہ لینے اور ان سے متصف ہونے کی توفیق ملی ہوئی ہے۔تو عزت کے یہی معنی ہیں کہ خدا کے قریب ہوں اور اس کی صفات سے متصف۔پس عزت کے یہی معنی ہیں کہ ایک شخص ان ذمہ داریوں کو ادا کرے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد کی گئی ہیں۔پس جو شخص اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا۔وہ معزز نہیں۔کیونکہ جس کے اندر ایمان نہیں۔اسے کسی غالب ہستی کا سہارا نہیں۔جب یہ حالت ہے تو پھر کون سی چیزیں ہیں۔جن کے لئے وہ قربانیاں کرے۔اخلاق، علم ، حب وطن۔یہ سب ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔حب وطن یہی ہے کہ ایک شخص یہ جانتا ہو۔اگر میرا ملک کسی دوسرے کے قبضہ میں آگیا تو میں امن میں نہیں رہ سکوں گا۔اس طرح حب وطن بھی عزت کا حصہ ہے۔علم بھی عزت کا حصہ ہے۔مال تو ادنی چیز ہے سب سے اعلیٰ چیز ایمان ہے۔پھر ایسی چیز کی حفاظت کی کوئی شخص اگر کوشش نہیں کرتا تو پھر کس کی کرے گا۔کیا تم نے کسی کو دیکھا ہے کہ مال کی نگرانی ایک دفعہ کر کے پھر چھوڑ دے۔کیا زمین دار زمین میں بیج ڈال کر پھر اس کی حفاظت ترک کر دیتا ہے۔کیا ایک ماں اپنے بچے کو ایک دفعہ دودھ پلا کر پھر دودھ پلانا بند کر دیتی ہے۔کیا کسی عقلمند کو دیکھا ہے آج لباس پہنے اور کل نہ پہنے۔کبھی کسی شخص کو دیکھا ہے آج کھانا کھائے اور کل نہ کھائے۔سوائے اس کے کہ وہ عبادت یا حفظان صحت کے لئے ایسا کرے۔کبھی نہیں دیکھو گے کہ ایک شخص ایک دفعہ کھائے اور پھر بند کر دے۔کبھی نہیں دیکھو گے کہ ماں ایک دفعہ اپنے بچے کو دودھ پلا کر پھر چھوڑ دے۔کبھی نہیں دیکھو گے کہ ایک وقت پانی پی