خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 288

288 35 ایمان کی حفاظت کرو اور اعمال میں دوام پیدا کرو (فرموده ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : گو میں بعض پچھلے خطبات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر جو کام کیا اس کے متعلق معیار نبوت کے مطابق بعض امور بیان کر رہا تھا اور ابھی بعض امور باقی ہیں۔جن کا بیان کرنا ضروری ہے لیکن آج میں ایک ضرورت کے لئے مضمون کو بدل کر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس پر توجہ دلانا میرے نزدیک نہایت ضروری ہے۔ایمان ایک ایسی چیز ہے کہ جو بہت ہی قیمتی ہے۔اگر واقعہ میں کوئی خدا ہے۔اگر واقعہ میں ہم اس کی مخلوق ہیں۔اگر واقعہ میں انسان خدا کا ایسا قرب حاصل کر سکتا ہے کہ خدا کا جلوہ گاہ بن جائے۔تو ایمان سے قیمتی اور کوئی چیز نہیں۔دنیا میں لوگوں کو جان پیاری ہوتی ہے۔لیکن یہ باتیں اگر صحیح ہیں اور ہر مسلمان اقرار کرتا ہے کہ وہ ان کو صحیح سمجھتا ہے تو پھر جان کی ایمان کے مقابل میں کیا قیمت ہے۔جان کی اگر خواہش ہے تو اس لئے کہ وہ کوئی اچھی چیز حاصل کرے۔زندگی کی خواہش اچھے احساسات کے لئے ہے۔ورنہ جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ دنیا میں اس کے لئے تکلیف ہی تکلیف ہے تو خود کشی کر لیتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی خواہش نیک احساس سے پیدا ہوتی ہے۔جب یہ حالت ہے تو پھر زندگی بغیر ایمان کے کچھ نہیں رہ جاتی۔سوائے غلط ، تکلیف دہ غم پیدا کرنے والے گندے اور ناپاک احساسات کے اور کیا چیز باقی رہ جاتی ہے۔پس ایسی صورت میں جان کی ایمان کے مقابل میں کوئی قیمت نہیں بلکہ بسا اوقات زندگی کی خواہش وبال جان ہو جاتی ہے۔پس اگر وہ اس قسم کے امور پر خیال کرے۔تو زندہ رہنے کو وہ مصیبت خیال کرے گا نہ کہ خوشی۔علاوہ ازیں اگر اگلی زندگی کو مد نظر رکھا جائے۔تو پھر اس دنیا کی زندگی کو زندگی کہنا ہی غلط