خطبات محمود (جلد 9) — Page 21
21 4 اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص اور حسن نیت میں ہے (فرموده ۲۳ جنوری ۱۹۲۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا کے کارخانے اور اس کے کاروبار پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام کاروبار اسباب کے ساتھ وابستہ ہیں۔بعض کام اور بعض امور تو طبیعی ہیں اور بعض شرعی ہیں۔طبعی امور تو وہ ہیں جن کے ساتھ نیت اور ارادہ کا کوئی دخل نہیں۔جب ایک خاص قسم کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ کام بھی ہو جاتا ہے۔خواہ کوئی اس کام کے ہونے کا ارادہ کرے یا نہ کرے مثلا اگر کوئی شخص پانی پئے تو وہ ضرور سیر ہو جائے گا خوادہ سیر ہونے کا ارادہ کرے خواہ نہ کرے۔اسی طرح جو روٹی کھائے گا اس کا پیٹ ضرور بھر جائے گا خواہ وہ پیٹ کے بھرنے کا ارادہ کرے یا نہ کرے بعض بیماریوں میں انسان کھاتا بھی چلا جاتا ہے مگر اس کی بھی پھر حد ہوتی ہے یہ نہیں کہ اس پر پیٹ بھر جانے کا کوئی وقت ہی نہیں آتا۔اسی طرح بعض پاگل کھانا ترک کر دیتے ہیں۔ان کو زور کے ساتھ اور بعض حالات میں نلکی کے ساتھ کھانا اندر پہنچایا جاتا ہے۔اس پاگل یا مریض کا کوئی ارادہ نہیں ہو تا مگر کھانا اندر پہنچ کر پیٹ بھر دیتا ہے۔ایک آدمی جو برف کے پانی سے نہائے گا وہ ضرور ٹھنڈا ہو جائے گا۔خواہ وہ دل میں کتنی ا ہی خواہش اور ارادہ گرم ہونے کا بھی کرتا رہے اس کے ارادہ کا کچھ اثر نہیں ہو گا۔اسی طرح ایک شخص گرم لحافوں میں پڑ جائے تو چاہے وہ سرد ہونے کا اردہ اور خواہش بھی رکھتا ہو تو وہ سرد نہیں ہو گا۔بلکہ طبعی طور پر ضرور وہ گرم ہی ہو گا تو طبیعی اسباب میں نیت اور ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔