خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 246

246 31 ہم مقامات مقدسہ کی توہین کو نہایت نفرت و حقارت سے دیکھتے ہیں (فرموده مورخه ۴ ستمبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کاموں کے متعلق کچھ بیان کروں گا لیکن طبیعت آج زیادہ خراب ہے اس لئے میں ایک اور مضمون لیتا ہوں۔اس لئے بھی کہ وہ مختصر ہوگا اور اس لئے بھی کہ وہ وقتی معاملہ کے متعلق ہے اور ایک ایسے وقتی معالمہ کے متعلق ہے جو اس وقت نہایت ہی اہم ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسرے مسلمان ہم احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں اور ایسا کافر سمجھتے ہیں کہ کسی کام میں بھی ہماری شمولیت نہیں چاہتے۔لیکن جو تعلقات ہمارے اسلام سے ہیں وہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم ان کاموں میں دخل دیں جن کا تعلق اسلام سے ہے اور اس وجہ سے دخل دینے سے باز نہیں رہ سکتے کہ مسلمان کہلانے والے ہم سے ناراض ہیں اور وہ ہمارا دخل گوارا نہیں کرتے۔دیکھو اگر ایک بھائی کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو اسے اس لئے نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ ہم سے ناراض ہے بلکہ انسانیت اور شرافت کا یہی تقاضا ہے کہ باوجود اس کی ناراضگی کے بلکہ باوجود اس کے ناپسند کرنے کے پھر بھی اس کی امداد کی جائے اور خاص کر اس وقت جب کہ اس کی مصیبت کا اثر خاندان تک پہنچتا ہو۔رسول اللہ ﷺ سے ہمارا ا بنیت کا تعلق ہے وہ ہمارے روحانی باپ ہیں اور ہم ان کے روحانی بیٹے ہیں دوسرے مسلمان بھی آپ سے یہ تعلق رکھتے ہیں اور وہ صحیح معنوں میں رسول کریم کے روحانی بیٹے ہیں یا نہیں۔بہر حال وہ دعوی کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے روحانی بیٹے ہیں۔پس اگر کسی باپ کے بیٹے آپس میں لڑیں بھی تو جب آپ کی عزت اور حرمت خطرہ میں الله