خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 241

241 متعلق کچھ ایسی امیدیں لگائے بیٹھا ہو کہ وہ آئے گا۔تو یہ کرے گا وہ کرے گا اور ہوں وہ ساری امیدیں ایسی جو کسی صورت میں بھی نبی کی ذات کے ساتھ وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔اس لئے جب نبی کے آنے پر وہ پوری نہ ہوں۔تو ایسا شخص اس نبی کو نہیں مانے گا اور محض اپنے خیال کے فتور سے وہ تمام رحمتوں کا وارث بننے سے محروم رہ جائے گا۔جو اس نبی کے ساتھ آتی ہیں۔پس اس سوال کو پہلے عام کرنا چاہیے اور پھر اس قسم کے سوال کرنے والوں کے سوال کی مراد دریافت کرنی چاہیے۔بعض لوگ کہتے ہیں ملک کا آزاد کرانا نبی کا کام ہوتا ہے اور ایسے لوگ بھی کسی نبی کو نہیں مان سکتے۔جب تک کہ کوئی مدعی نبوت ان کے سامنے آکر ملک کو آزاد نہ کرائے۔لیکن ملکوں کا آزاد کرانا کوئی ایسا کام نہیں جو تمام انبیاء میں پایا جاتا ہو۔انبیاء کی زندگیوں پر نظر ڈالنے سے بہت سے ایسے نبی نظر آئیں گے جو دوسروں کے ملکوں میں رہتے اور انہیں کے آئین و قوانین کے پابند تھے اور انہوں نے کبھی یہ نہ کہا کہ ہم ملک کو آزاد کرانے کے لئے آئے ہیں۔پھر ایسے بھی نبی گزرے ہیں جو اپنے ملکوں میں رہتے تھے لیکن ان کے ملک دوسروں کے قبضہ میں تھے۔مگر انہوں نے کبھی یہ نہ کہا کہ ہم دوسروں کا قبضہ اس ملک سے اٹھانے کے لئے مامور ہوئے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ یہ کام بھی نبیوں کا نہیں کہ وہ ملکوں کو آزاد کراتے پھریں۔جب تمام کے تمام نبی نہ حکومت کے لئے آتے ہیں۔نہ سلطنت کے لئے۔نہ نبی کا فاتح ہونا ضروری ہے اور نہ ہی شریعت لانا تو معلوم ہوا ان کی غرض کچھ اور ہی ہوتی ہے۔جب یہ بات ذہن نشین کر دی جائے گی۔تو اس صورت میں ہر ایک شخص اس بات کی جستجو کرے گا کہ نبی کے آنے کی اصل غرض کو دیکھے اور جب لوگ اس طرف توجہ کریں گے تو پھر خود مقرر کردہ امر پر نبی کی سچائی بلکہ جس غرض کے لئے کوئی نبی آیا اس غرض کو مد نظر رکھ کر اسے پر کھیں گے۔نہ کہ اس وزیر کی طرح کریں گے۔جس کا قصہ اس طرح مشہور ہے۔ایک مدعی نبوت ایک بادشاہ کے پاس آیا اور آکر کہا۔اے بادشاہ میں نبی ہوں مجھے قبول کرو۔بادشاہ نے وزیر سے اس کے متعلق پوچھا۔وزیر نے کہا کہ اے بادشاہ ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔اور یہ کہہ کر وہ ایک پرانا زنگ خوردہ بگڑا ہوا تالا لے آیا اور کہنے لگا۔بادشاہ سلامت اسے کہئے۔اگر یہ نبی ہے تو اس کو درست کر دے۔بادشاہ نے مدعی نبوت کی طرف دیکھا تو اس نے جواب دیا۔میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔نہ کہ لوہار ہونے کا۔مجھے اگر آزمانا ہے تو نبوت کے کسی کام پر آزماؤ۔معلوم ہوتا ہے۔اس وزیر کے نزدیک نبی وہ ہو سکتا تھا کہ جو چاہے سو کرے۔اسی خیال سے وہ تالا لے