خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 226

226 ان کا جنازہ ہے۔میں ان کو ذاتی طور پر تو نہیں جانتا۔لیکن تار دینے والے دوست نے لکھا ہے کہ یہاں ان کا جنازہ پڑھنے والے نہیں۔میں نے کہا ہوا ہے کہ میں ان لوگوں کا جنازہ پڑھوں گا جو یا تو سلسلے میں مشہور ہیں اور یا وہ کسی ایسی جگہ فوت ہو گئے ہیں کہ جہاں جنازہ پڑھنے والا ہی کوئی نہیں یا بہت تھوڑی جماعت ہے۔چوہدری محمد ولایت خاں جہاں فوت ہوئے ہیں وہاں جماعت نہیں۔اس لئے ایک تو میں ان کا جنازہ پڑھوں گا۔(۲) دوسرا جنازہ میں ایک ایسے شخص کا پڑھوں گا۔جو ایک ایسی جگہ فوت ہوا ہے کہ وہاں بھی بہت قلیل جماعت ہے اور فوت ہونے والا شخص ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔جو اللہ کے فضل سے سارے کا سارا احمدی ہے۔سیٹھ عبدالرحمان اللہ رکھا صاحب کو ہماری جماعت کے اکثر دوست جانتے ہیں۔ان کے بھائی سیٹھ علی محمد صاحب ہیں ان کے بھتیجے سیٹھ غلام حسین فوت ہو گئے ہیں۔سیٹھ عبدالرحمان اللہ رکھا کی اپنی تو کوئی اولاد نہیں ایک لڑکا تھا چار پانچ سال ہوئے وہ بھی فوت ہو چکا ہے۔اب یہ ان کے بھائی کا لڑکا ہے۔جو جوانی کے عالم میں فوت ہو گیا ہے۔سیٹھ عبدالرحمان اللہ رکھا وہ شخص ہیں کہ جن کو حضرت صاحب کی کتابیں پڑھنے والے خوب جانتے ہیں۔حضرت صاحب کی کتابوں میں ان کا اکثر ذکر آتا ہے۔مالدار لوگ عام طور پر بزدل ہوتے ہیں۔لیکن انہوں نے حضرت صاحب کو قبول کیا۔ان پر مشکلات بھی آئیں۔تکلیفیں بھی ان کو ہوئیں۔ان پر ابتلاء بھی آئے لیکن باوجود اس کے ان کے اخلاص کی یہ حالت تھی کہ اگر ان کے اپنے پاس کچھ نہ ہوتا تو بھی وہ حضرت صاحب کو قرض لے کر روپیہ بھیجتے رہتے۔ایک دفعہ ان کو کاروبار میں سخت نقصان پہنچا اور سب کچھ نیلام ہو گیا۔انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔تھوڑے عرصے کے بعد تین سو روپیہ انہوں نے حضرت صاحب کو بھیجا۔حضرت صاحب نے فرمایا آپ کی تو یہ حالت تھی آپ نے روپیہ کیسا بھیجا۔جس کے جواب میں انہوں نے عرض کی کہ میں نے کچھ روپیہ اپنی ضروریات کے لئے قرض لیا تھا۔اس میں سے خدا کا بھی حق تھا سو میں نے وہ ادا کیا۔ان کی محبت اور اخلاص کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ جو الہام مشہور ہے۔