خطبات محمود (جلد 9) — Page 13
13 کے ماتحت انسانی جذبات اس کو مار کھانے والے کی امداد کے لئے آمادہ کر دیں گے۔ایسی حالت میں اگر عقل کے ماتحت اپنے جذبے کو وہ اس رنگ میں پورا کرے کہ مارنے والے کے ہاتھ کو پکڑلے یا اس کو روک دے تو اس کا جذبہ بھی پورا ہو جاتا ہے اور نقصان بھی کوئی نہیں ہوتا۔غرض ان جذبات اور عقل انسانی سے تین باتیں پیدا ہوتی ہیں۔بعض وقت تو جو کام انسان محض عقل یا جذبات کے ماتحت کرتا ہے وہ صحیح ہوتے ہیں اور بعض وقت غلط اور بعض اوقات مقابلہ میں ایک کا دوسرے کے خلاف صحیح یا غلط نتیجہ ہوتا ہے۔اگر عقل کے مطابق کام لیا جائے تو جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔یا جذبات کے ماتحت کیا جائے تو عقل کے خلاف ہوتا ہے۔بعض وقت انسان جذبات کو دبا کر محض عقل کے ماتحت کام کرتا ہے تو سخت سنگدل نظر آتا ہے۔اور بعض اوقات جذبات غالب ہو کر عقل کو دبا لیتے ہیں وہ بھی خطرناک ہوتا ہے۔پس ایک مومن کا ایمان جس طرح اپنے ساتھ خوف اور رجاء رکھتا ہے۔اسی طرح نہ تو اس کو ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔کہ جس سے اس کے احساسات اور جذبات بالکل مٹ جائیں اور نہ ہی ایسا کہ اس کی عقل بالکل اس کے جذبات کے نیچے دب جائے۔جیسے رسول اللہ کا اسوہ حسنہ الليل ہمارے لئے موجود ہے آپ پر غم بھی آئے اور خوشی بھی۔اگر مامعنی پر غم کرنا چاہیے یا جو ہو چکا۔اس پر غم کھانا نادانی ہے۔اس خیال سے کہ جو ہو چکا سو ہو چکا اس پر غم کیا کرنا تو آنحضرت کبھی غم یا خوشی نہ کرتے۔چنانچہ عقلی طور پر جنہوں نے اس بارہ میں سوچا ان میں سے ایک گروہ نے تو یہ یقین کر لیا کہ ہر ایک کام اور ہر ایک فعل جو دنیا میں ہو رہا ہے۔وہ نقصان پہنچا رہا ہے۔اس لئے انہوں نے اس خیال کے ماتحت ہر ایک خوشی کے جذبے کو مٹا دیا ہے اور اس کی جگہ رنج ہی رنج اختیار کر لیا ہے۔اسی خیال کے ایک فلاسفر کو کسی نے اس کے گھر بیٹا پیدا ہونے کی خبردی۔کہنے لگا بڑی صیبت سر پر آپڑی پہلے تو ہم دونوں ہی تھے اب تیرے بیٹے کے کھانے پہننے کی فکر بھی ساتھ لگ گئی یہ بیمار ہو گا تو اہم الگ دکھ اٹھائیں گے۔مرے گا تو پھر اور صدمہ اٹھانا پڑے گا ہم تو دکھ اور مصیبت میں پڑ گئے۔اس لئے وہ پہلے سے ہی اس غم میں رونے لگ گیا۔ایسے لوگوں کو اگر مال حاصل ہو جائے تو پھر مال کی حفاظت کا غم کرتے ہیں۔جب تک مال نہیں تھا تو مال نہ ہونے کا غم اور جب مال مل گیا تو مال کی حفاظت کا غم اور پھر جب چور لے گیا تو پھر مال کے چوری چلے جانے کا غم۔غرض اس گروہ نے جو سمجھا وہ یہی کہ دنیا میں تو غم ہی غم ہے خوشی بالکل نہیں۔اور دوسرے گروہ نے جو