خطبات محمود (جلد 9) — Page 166
166 22 بچوں کے اخلاق کس طرح درست ہو سکتے ہیں فرموده ۱۲ جون ۱۹۲۵) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے ایام میں درستی اخلاق کے متعلق متواتر کئی خطبے پڑھے ہیں۔ان میں سے خصوصیت کے ساتھ دو خطبے ایسے تھے۔جو بچوں کی اصلاح اور ان کے اخلاق کی درستی اور ان کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا۔ان کے اخلاق کی درستی اور اصلاح کا بہترین موقع بچپن کا زمانہ ہے۔اسی واسطے میں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس قیمتی وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس کو ضائع نہ ہونے دینا چاہیے۔نیز یہ کہ اس زمانہ میں جتنا گہرا اثر انسان کی طبیعت کے اندر پیدا ہو سکتا ہے بڑی عمر میں نہیں ہو سکتا۔اس لئے اس زمانہ میں بچوں کی اخلاقی درستی میں کو تاہی نہ کرنا چاہیے۔میرے ان خطبات کا برا یا بھلا جو بھی اثر ہوا۔ایک کا تو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔دوسرے کا میں آج ذکر کرنا چاہتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ امت اسلامیہ کے لئے یہی مقدر ہے کہ جب کبھی بھی اس کے لئے مصائب اور مشکلات اور خطرات پیدا ہوں تو خدا تعالیٰ انہی خطرات میں سے اس کے لئے بہتری کے سامان پیدا کر دے۔حضرت مولانا روم صاحب کا شعر - ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است جس کو ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی پڑھ کر فرمایا کرتے تھے۔اگر کوئی قوم یا جماعت واقعہ میں مسلمان بن جائے تو اس کے تمام مصائب اور تمام خطرات جن میں وہ گرفتار ہو۔اس کے لئے موجب نجات اور ترقی ہو جاتے ہیں اور اس پر کوئی مصیبت نہیں آتی۔جس کا نتیجہ اس