خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 147

147 میری عقل ماری ہوئی ہے۔میرے معالمہ میں دوسرے لوگ بے غرض ہو کر جو فیصلہ دیں گے۔وہی زیادہ صحیح اور درست ہو گا۔تو پھر وہ کسی کا حق نہیں مارے گا اور ننانویں فی صد ایسے فیصلے ہوں گے جن میں کسی کی حق تلفی نہ ہو گی۔کیونکہ اس طرح انسان ہوشیار اور چوکس ہو جاتا ہے اور وہ ظلم اور اشاعت فاحشہ سے بھی بچ جاتا ہے۔مامور اور مرسل پر جو اس کا ایمان ہوتا ہے وہ بھی سلامت اور محفوظ رہتا ہے۔کیونکہ ایک عقل کے مقابلہ میں زیادہ عقلیں صداقت اور راستی کے دریافت کرنے کے بہت زیادہ قریب ہوتی ہیں اور اگر وہ کبھی سو مقدمات میں سے کسی ایک آدھ مقدمہ کے فیصلہ میں غلطی بھی کریں اور اس کا کچھ نقصان بھی ہو جائے تو یہ نقصان ان فوائد کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھے گا جو اسے دیگر مقدمات میں حاصل ہوئے ہیں۔اور جن کی وجہ سے وہ نہ صرف بہت سے جرائم سے بچ گیا بلکہ اس کا دین اور ایمان بھی محفوظ ہو گیا۔تو اپنی ذات سے جو بات تعلق رکھتی ہو اس کا فیصلہ اپنی عقل سے نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ اس کے متعلق دوسروں کی عقل کو ترجیح دینی چاہیے اور ان کے فیصلہ کو درست ماننا چاہیے۔اپنی ذات سے متعلق معاملہ پر انسان کس طرح غلطی کھا سکتا ہے۔اس کا ایک دفعہ مجھے نہایت حیرت انگیز تجربہ ہوا۔ایک شخص نے مجھے لکھا میرا لڑکا بہت ہوشیار اور لائق تھا۔خصوصاً عربی میں تو بہت ہی لائق تھا۔لیکن استادوں نے اس کو فیل کر دیا۔اب یہ ایسا معاملہ تھا کہ اس کی فوراً تحقیق ہو سکتی تھی۔کیونکہ پرچے لکھے ہوئے موجود ہوتے ہیں۔میں نے پرچے منگوائے عربی کے پرچے کے سو نمبر تھے جن میں سے اسے اڑہائی دیئے گئے تھے۔اب اس میں غلطی کا پکڑنا بہت آسان تھا اور بہت آسانی سے معلوم ہو سکتا تھا کہ لڑکے کی غلطی ہے یا استادوں کی۔لیکن میں نے جب اس پرچے کو دیکھا تو مجھے نمبر دینے والے استاد پر سخت افسوس ہوا کیونکہ وہ پرچہ اڑھاہی نمبروں کے قابل بھی نہیں تھا۔اس نے ایسے الٹ پلٹ جواب دیئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا اسے عربی سے مس ہی نہیں ہے۔مثلاً اس سے سوال کیا گیا مضاف کیا ہوتا ہے۔تو ! اس نے لکھ دیا۔فعل۔اس سے مضارع کی گردان پوچھی گئی تو اس نے جواب دیا کہ ذھب یذھب۔اذھب۔نمبر دینے والے استاد نے اس کی کسی بات کو صحیح سمجھ کر یہ نمبر دے دیئے مگر دراصل اس نے اپنی طرف سے وہ بھی صحیح نہ لکھی تھی۔بلکہ اس کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کسی شخص سے پوچھا جائے۔انسان کی شکل کیسی ہوتی ہے۔اور وہ کہدے انسان وہ ہوتا ہے جس کی ایک سونڈ اور دو آنکھیں ہوتی ہیں۔اب یہ صحیح ہے کہ انسان کی دو آنکھیں بھی ہوتی ہیں۔لیکن یہ کہہ کر کہ اس کی سونڈ ہوتی ہے۔بتا دیا کہ وہ جانتا ہی نہیں انسان کسے کہتے ہیں۔اور اس کا دو آنکھیں بتانا بھی کچھ