خطبات محمود (جلد 9) — Page 125
125 پاس سے واپس آکر بڑی دعوت کی اور کہنچنیاں نچوائیں تا ڈپٹی کمشنر اور لوگوں کو یقین ہو جائے کہ وہ وہابی نہیں ہیں۔پس جب تعلیم یافتہ لوگ اپنے افسروں کو خوش کرنے کے لئے اپنے عقائد تک کو چھوڑ بیٹھتے ہیں تو جو لوگ غیر تعلیم یافتہ ہوں ان پر اپنے افسروں اور حکاموں کا اور بھی زیادہ اثر اور رعب ہو گا۔لیکن مسلمان ان جھوٹی رپورٹوں پر جو عیسائی مشنریوں کی طرف سے اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں خوشیاں مناتے ہیں کہ اسلام خود بخود افریقہ اور دوسرے ممالک میں ترقی کر رہا ہے۔حالا نکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہندوستان میں تو اسلام پھیلتا نہیں پھر افریقہ کے وحشیوں میں خود بخود کس طرح پھیل رہا ہو گا۔یہاں ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان ہیں جن میں سے اکثر تعلیم یافتہ بھی ہیں۔اور پھر ان میں بہت سے مولوی بھی ہیں جو تبلیغ اسلام کے مدعی ہیں۔لیکن یہاں پر کس قدر اسلام پھیل رہا ہے۔پھر افریقہ کے وحشیوں میں جہاں مسلمانوں کی تعداد اتنی نہیں ہے۔لوگ سخت جاہل ہیں۔وہاں پر کس طرح خود بخود پھیل رہا ہے۔آج مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے کیوں گر رہے ہیں اور ان پر کیوں تنزل آرہا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ عیسائیوں کی رپورٹوں پر خوش ہوتے رہتے ہیں اور اسلام کی اشاعت کی طرف قطعا کوئی توجہ نہیں کرتے اور طریقہ تبلیغ سے بالکل ناواقف ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں کیا وجہ تھی کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانہ میں جب کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اسلام بہت ترقی کر رہا تھا۔سو اسکا یہی باعث تھا کہ صحابہ کرام جانتے تھے کہ کس طرح تبلیغ کی جاتی ہے اور وہ محض علماء پر انحصار نہیں رکھے ہوئے تھے۔بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص مبلغ تھا اور اسلام کی اشاعت کو وہ اپنا فرض منصبی خیال کرتے تھے۔جو قوم اپنے مذہب کی تبلیغ کا انحصار علماء پر رکھتی ہے وہ کبھی کامیاب اور بامراد نہیں ہو سکتی۔جب تک کسی قوم کا ہر فرد مبلغ نہیں اور پھر جب تک ہر فرد طریقہ تبلیغ کو نہیں جانتا تب تک وہ قوم کسی کامیابی کی امید نہیں رکھ سکتی۔پس میں جہاں اپنے دوستوں کو تبلیغ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔وہاں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی تبلیغ کا انحصار محض علماء پر نہ رکھیں۔بلکہ ان کا ہر فرد مبلغ ہو۔اور جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارا ہر فرد مبلغ ہونا چاہیے وہاں یہ بھی بتاتا ہوں کہ تبلیغ کوئی آسان کام نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ایک محل تیار کر لینا آسان ہے لیکن ایک شخص کا دل پھیر دینا آسان نہیں۔کیونکہ بغیر مناسب تدابیر اور دلائل کے کسی شخص کا دل پھیرا نہیں جا سکتا۔پس میں اس بات کی