خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 117

117 رات دن ایک کر کے جماعت کو اس طرف لے جائیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں آئے تھے۔دیکھو ہم چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔اور کوئی کوشش نہیں جو دشمن ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹانے کی خاطر نہ کرتے ہوں۔ان کی پوری کوشش یہی ہے کہ ہمارے رستہ میں مشکلات پیدا کی جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی کفار کے متعلق فرماتا ہے کہ کفار پورا زور اور ساری طاقت اس بات کے لئے لگائیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے رستہ سے ہٹا دیں۔چنانچہ کوئی ایسا کام نہیں جو آج کل بھی کفار ہماری جماعت کو اس کے رستہ سے ہٹانے کے لئے نہ کرتے ہوں۔اس لئے ہمیں ان کی کوششوں سے بے خوف نہیں رہنا چاہیے۔اگر کوئی ہم میں سے یہ سمجھ کر کہ اب کوئی فکر نہیں بیٹھ رہے تو وہ اندھا ہے اس کے اندر کوئی بینائی نہیں ہے۔اور اس نے ایسے قیمتی موتی کی ذرہ بھی قدر نہیں کبھی اور اس کی حفاظت کی کوئی پرواہ نہیں کی جسے دشمن حسد کی وجہ سے برباد کرنا چاہتا ہے۔ابھی اس تحریک چندہ کے متعلق ہی دیکھ لو۔کس طرح اس کو دیکھ کر ان لوگوں کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔حالانکہ چندہ دینے والا کوئی اور۔لینے والا کوئی اور نہ ان سے کوئی چندہ مانگتا ہے اور نہ ان کی جیب سے کچھ نکلتا ہے۔لیکن پھر بھی ہمارے چندوں کی کثرت کو دیکھ کر ان کے سینوں میں حسد کی آگ شعلے مارنے لگتی ہے۔چنانچہ اب بعض غیر احمدی لکھ رہے ہیں کہ لوجی ان کا دیوالہ نکل گیا ہے۔اور تحریکیں کر رہے ہیں۔لیکن اب یہ چندہ دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔حالانکہ اگر یہ بات ہے تو انہیں خوش ہونا چاہیے تھا کہ احمدیوں پر چندہ خاص کا ایک اور بوجھ پڑا۔لیکن ہم انہیں کہتے ہیں تمہارے دل اس بات سے جل رہے ہیں کہ کیوں یہ لوگ اتنی اتنی بڑی قربانیاں کر رہے ہیں۔اور تمہارے یہ لکھنے کا یہ مطلب ہے کہ ہماری جماعت کے اخلاص اور قربانی کو دیکھ کر تمہارے دل جل گئے ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ تمہارے اس حسد سے جماعت کے اخلاص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔بلکہ اور بھی زیادہ ترقی ہوئی ہے۔اور انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ چندے میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ نے صبح کی نماز کے لئے وقت پر جاگ نہ سکے۔اور سوتے رہے۔جب اٹھے تو نماز کا وقت گزر چکا تھا۔اس پر آپ اتنا روئے اتنا روئے کہ قریباً تمام دن روتے رہے۔دوسرے دن عین نماز کے وقت کسی نے انہیں جگا دیا۔آپ نے پوچھا تو کون ہے۔تو اس نے جواب دیا میں ابلیس ہوں۔انہوں نے کہا تم تو لوگوں کو نماز سے روکتے ہو مجھے جگانے کے لئے کس طرح آگئے۔اس پر اس نے کہا کل تم نماز کا الله