خطبات محمود (جلد 8) — Page 7
روزانہ بن جاتی ہے۔گویا ۷ دفعہ سے لیکر ۵۰ دفعہ تک برابر ایسی حد بندی ہے کہ جس کی ایک حد تو فرض ہے۔دوسری حد قریب قریب فرض کے ہے۔یعنی سنن اور پھر نوافل اور اگر اور مختلف نوافل شامل کر لئے جائیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند فرماتے تھے گو ان پر زیادہ زور نہ دیتے تھے تو ۶۰ تک تعداد پہنچ جاتی ہے اور کوئی نماز بلکہ کوئی رکعت ایسی نہیں رکھی گئی جن میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری نہ ہو۔حتی کہ جنازہ کی نماز میں بھی سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے حالانکہ بظاہر یہ نماز مرنے والے کے لئے دعا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے سورۃ فاتحہ کے پڑھنے پر اس قدر جو زور دیا گیا ہے۔میرے نزدیک اتنا زور دینے کی وجہ سورہ فاتحہ کے مضمون سے ہی ظاہر ہے۔سورہ فاتحہ چونکہ تمام قرآن کے مضامین کا خلاصہ ہے۔اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی مضمون نہیں جو اس میں نہ ہو۔اور چونکہ قرآن کریم تمام روحانی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے اور اس میں وہ تمام مضمون ہیں جن کے بغیر خدا نہیں مل سکتا۔جن کے بغیر روحانیت مکمل نہیں ہو سکتی۔جن کے بغیر اخلاق اعلیٰ نہیں ہو سکتے۔اور جن کے بغیر تمدن قائم نہیں رہ سکتا۔اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب مضامین سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ثابت کئے ہیں۔اور ہم بھی خدا کے فضل سے اصولی طور پر سب مضامین سورہ فاتحہ سے ثابت کر سکتے ہیں۔اگر کوئی معترض کھڑا ہو اور کہے خدا کے قرب کے گر۔روحانیت میں ترقی کرنے کے طریق۔اخلاقی مضامین یا تمدن کے قیام کے گر بتاؤ۔تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف یہ بلکہ ہر قسم کے روحانی مسائل اصولی طور پر اس سورۃ سے نکال سکتے ہیں۔لیکن ایک مضامین عبارت کے الگ الگ ٹکڑے اور الفاظ سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے عبارت کی ترتیب سے۔پس اس سورۃ کے ٹکڑوں سے سب مضامین نکلتے ہیں۔مگر ساری سورہ فاتحہ ایک خاص مضمون کی طرف توجہ دلاتی ہے۔اور جو شخص بھی سورہ فاتحہ پر غور کرے گا فوراً سمجھ - جائے گا کہ اسی مضمون کی وجہ سے اس کے پڑھنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے۔وہ مضمون کیا ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم کو علیحدہ کر کے کہ یہ سورہ فاتحہ کی کنجی ہے اور کنجی اپنا مستقل وجود رکھتی ہے اس کو چھوڑ کر اس طرح شروع ہوتی ہے۔الحمد لله رب العالمين۔۔۔۔الخ ساری خوبیاں خداتعالی میں ہی ہیں۔اس سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا کے سوا اور کسی ذات میں سب خوبیاں نہیں۔صرف اللہ ہی کی ذات ایسی ہے جس میں سب خوبیاں ہیں۔اس کے بعد بتایا کہ اللہ میں یہ یہ خوبیاں ہیں۔تم غور کرکے دیکھ لو۔تم میں یہ ہیں یا نہیں۔انسان سمجھ لے گا کہ نہیں اور انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے۔جب اس میں وہ خوبیاں