خطبات محمود (جلد 8) — Page 63
63 بیان کیا تھا جس میں حکمت یہ تھی کہ مجلس مشاورت کے موقعہ پر جب نمائندگان آئیں تو ان سے مشورہ لوں کہ آیا یہ تحریک عام ہونی چاہئیے یا خاص۔سو مجلس شوری میں کثرت رائے اس بات پر تھی کہ رقم خاص کر دی جاوے۔جو چاہے اس میں شریک ہو جاوے اور وہ رقم کم سے کم سو ہوئی چاہیے۔اگر اس ذریعہ سے رقم پوری ہو جاوے تو اچھا ورنہ اس تحریک کو عام کر دیا جائے تاکہ امیرو غریب اس میں حصہ لے سکیں۔میں نے مجلس کی اس رائے اور اس مشورہ کو منظور کر لیا ہے۔سو آج میں ان لوگوں کو جو میرے سامنے بیٹھے ہیں اور یا جن تک میرا یہ خطبہ چھپ کر پہنچ جائے اور وہ میرے دل اور روحانی آنکھوں کے سامنے بیٹھے ہیں۔مخاطب کرتا ہوں کہ جس جس کو اللہ تعالٰی توفیق دے اور وہ اس کام میں حصہ لے سکتا ہو تو وہ جلد سے جلد کم از کم سو اور زیادہ سے زیادہ جتنا چاہے اور دے سکے خزانہ بیت المال میں بھیج دے۔قادیان میں ایسے ذی ثروت لوگ بہت کم ہیں۔بالعموم قادیان میں بڑی بڑی قربانیاں کر کے آئے ہوئے ہیں۔اور معمولی سی آمدنی سے بیوی بچوں کے اخراجات بھی بمشکل چلاتے ہیں۔مگر پھر بھی قادیان والوں کی قربانیاں اور ان کا اخلاص قابل رشک ہے۔بہت سے ایسے لوگوں نے اس چندہ میں شمولیت کی ہے کہ اگر میں خود اس رقم کے دینے والوں کے نام نامزد کرتا تو کبھی میرے وہم میں بھی نہ آتا کہ وہ یہ بوجھ اٹھا سکیں گے۔بعض کی ۱۴۔۱۵ روپیہ تنخواہ ہے مگر پھر بھی انہوں نے اس رقم کو ادا کر دیا ہے۔معلوم نہیں کتنے عرصہ اور کن اغراض کے لئے وہ یہ رقم بچا بچا کر جمع کر رہے تھے۔مگر ان کے اخلاص نے ان کو مجبور کر دیا کہ مالداروں سے پیچھے نہ رہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غرباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ ہم نوافل پڑھتے اور تسبیح و تحمید کرتے ہیں۔امراء بھی یہ کرتے ہیں۔ہم نمازیں پڑھتے اور جہاد کرتے ہیں۔امراء بھی ایسا کر لیتے ہیں۔پھر وہ صدقہ دیتے ہیں ہم کس طرح ان کے برابر ہوں۔آپ نے فرمایا کیا میں تم کو ایک ترکیب نہ بتادوں جس سے تم ان امراء پر سبقت لے جاؤ۔انہوں نے عرض کیا حضور ضرور بتائیں آپ نے فرمایا کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳۔۳۳ دفعہ سبحان اللہ اور الحمد للہ اور ۳۴ دفعہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔اس سے تم کو ثواب ملے گا۔مگر تم ان سے بڑھ جاؤ گے۔وہ بہت خوش ہوئے اور چلے گئے۔امیروں کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔انہوں نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا۔چند دن کے بعد پھر غرباء حاضر ہوئے اور عرض کیا حضور امراء نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔اور فرمایا کہ یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔میں ان کو کس طرح روک دوں۔۔اللہ تعالیٰ نے ان کو دل ہی ایسا دیا ہے کہ وہ کسی طرح پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔