خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 547

547 نہیں ہوتا کیونکہ ایک مومن کو عارف ہونے کی وجہ باوجود زیادہ حساس ہونے کے ان صدمات کی برداشت ہوتی ہے جو ایک کافر کو نہیں ہو سکتی۔ایک مومن کے غم کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک تاگے کا ٹکڑا ہاتھ میں رکھ کر اوپر ایک سیر کا پتھر رکھ دیا جائے۔جس سے اس تاگے کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔لیکن کافر کی مثال ایسی ہے۔جیسے ایک شاخ کے درمیان جس کے نیچے کوئی سہارا نہ ہو ایک پتھر رکھ دیا جائے۔جس سے وہ ٹوٹ جائے گی۔پس ایک مومن کے صدمات میں اللہ تعالیٰ اس کا سہارا ہوتا ہے۔اس لئے غموں کے مقابلہ میں ایک کافر مومن کے برابر کبھی برداشت نہیں کر سکتا باوجود اس کے کہ ایک مومن کے اندر تکلیف کا احساس اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ہزار کافر اور ہزار غیر مومن کو بھی اتنا احساس نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ مومن کے لئے ڈہارس ہوتا ہے۔اس لئے اس کو ان صدمات کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔بلکہ جہاں اس کو رنج ہوتا ہے۔وہاں ان اخبار کے پورا ہونے کی وجہ سے اس کی خوشی بھی ہوتی ہے۔کہ یہ تو وہی کچھ ہوا۔جو میرے خدا نے مجھے پہلے ہی بتلا دیا تھا۔اس لئے میری اس دوسری بیوی کی وفات پر یا ان صدمات پر جو مجھے اور میرے خاندان کو ہوئے جن دوستوں نے اظہار ہمدردی کی ہے۔میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کو اظہار ہمدردی سے کوئی کسی کے صدمے کو بدل نہیں سکتا لیکن اس کا اظہار ہمدردی تعلق اور محبت کو ضرور بڑھاتا ہے۔اور وہ ایک طرح سے تسلی کا موجب بھی بنتا ہے۔کیونکہ ایک صدمہ یافتہ آدمی جب یہ دیکھتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس کے صدمے کو محسوس کرتے ہیں تو اس کے احساس میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔جو اس کے صدمے کو کم کر دیتی ہے۔ان واقعات نے اس بات کو اچھی طرح ثابت کر دیا ہے۔کہ جماعت میں خدا کے فضل سے بڑی محبت اور اخلاص ہے۔اور ان کے اس احساس رنج اور صدمہ نے اس بات کو ظاہر کر دیا ہے کہ گو وہ ہزاروں قالب ہیں۔مگر ان کی جان ایک ہے چونکہ اس وقت اور بہت سے اہم کام در پیش ہیں اس لئے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔اور اس کو کسی دوسرے وقت پر ملتوی کرتا ہوں۔مگر میں پھر ان ہی ابتلاؤں کے سلسلے میں اس بات کا بھی اظہار کر دیتا ہوں کہ جہاں خدا نے سفر یورپ پر جانے سے پہلے ان ابتلاؤں سے مجھے مطلع فرمایا۔وہاں اپنے فضل سے اس امر کی بھی اس نے بشارت دی ہے کہ ان مصائب کے بعد ہمیں بڑی عزت اور ریاست حاصل ہونے والی ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی بتلایا گیا ہے۔کہ بعض اور ابتلاء بھی ایسے مقدر ہیں۔جن سے بعض دوستوں کی