خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 528

528 بہت اچھی چیزیں ہیں۔مگر ان کا لوگوں کو نظر آنا کسی بندہ کے اختیار میں نہیں ہے۔بہت سی خوبصورتیاں بغیر کسی کے دیکھے اور بغیر اپنا کوئی قدردان پیدا کئے برباد ہو جاتی ہیں بہت سی لیاقتیں بغیر لوگوں کی توجہ کے چھپی رہتی ہیں۔بہت سے علوم بغیر کسی پر ظاہر ہوئے مٹ جاتے ہیں۔اس لئے اگر کسی کو یہ سب خوبیاں مل بھی جائیں تو بھی کلام چلانے والے اور اس کے دست و بازو بننے والے آدمیوں کا اسے مل جانا۔اس کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ خوبیوں کی طرف لوگوں کو توجہ دلانا خدا تعالٰی کا ہی کام ہے۔لیکن اگر ان خوبیوں سے خالی ہو۔تو اس کی طرف لوگوں کی توجہ کا پھرنا محض خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہو سکتا ہے۔پس میں ان دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جنہوں نے میرے بعد جماعت کا اخلاص سے کام کیا۔یعنی امیر جماعت احمدیہ ہند مولوی شیر علی صاحب اور ان کے نوائب مفتی محمد صادق صاحب و میاں بشیر احمد صاحب اور مجلس شوری کے تمام ممبروں کا شکریہ ادا کرنے اور خدا تعالیٰ سے انہیں اعلیٰ بدلے ملنے کی التجا کرنے کے بعد اس رب ودود کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جو حق کے لحاظ سے سب سے پہلے شکریہ کا مستحق ہے۔لیکن چونکہ وہ دل کے خیالات اور قلبی احساسات پر مطلع ہے۔پیشتر اس کے کہ ہم زبان سے اس کا شکریہ ادا کریں۔وہ دلی حالات سے واقف ہوتا ہے۔اور پیشتر اس کے کہ اپنے خیالات کو الفاظ میں لائیں۔وہ ذرہ ذرہ سے آگاہ ہے۔اس لئے میں نے خیال کیا کہ اس کا ذکر بتدریج بعد میں آئے۔یعنی پہلے ادنی کا ذکر ہو۔پھر اعلیٰ کا پس میں اس کے حضور دعا او ر التجا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کے اخلاص محبت قربانیوں اور ایثار کو اور زیادہ کرے۔ہمارے اندر ایسے آدمی پیدا ہوں۔جو سلسلہ کے کاموں کو چلانے کی قابلیت اور اہلیت رکھتے ہوں۔جن کے دل خدا تعالیٰ کی محبت سے پر ہوں۔ان کے قلوب اس کی مخلوق کی شفقت سے معمور ہوں۔ان کا ایک سرا ذات باری کی صفات سے وابستہ ہو۔تو دوسرا سر اپنی نوع انسان کی ہمدردی کے کنڈے سے بندھا ہوا ہو۔وہ اپنے مفاد اور اپنے کاموں کو ترک کر کے اللہ تعالی کے لئے زندگی وقف کریں۔خدا تعالیٰ ان کی کوششوں کو زیادہ سے زیادہ بار آور کرے۔جو کچھ اب تک ہوا ہے۔محض خدا کے فضل سے ہوا ہے۔اور آئندہ بھی جو کچھ ہو گا۔اس کے فضل سے ہو گا۔انسانی کوششوں سے نہ پہلے کچھ ہوا ہے۔نہ آئندہ ہو گا۔مگر ہماری کو تاہیوں ہماری بستیوں سے خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہلائی جا سکتی ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ان غفلتوں ان بستیوں اور ان کمزوریوں سے بچائے۔ہم پر اپنے رحم کی نظر رکھے اور ناراض نہ ہو۔