خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 514

514 عطا کرتی ہے۔اور اس کو عبودیت کہتے ہیں بلکہ اگر زیادہ غور کیا جاوے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دراصل (گو ادب ایسا) کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔مگر مفہوم کو واضح کرنے کے لئے کہتے ہیں) خدمت تو خدا کرتا ہے اور وہ خدمت مجبوری کی نہیں۔بلکہ محبت اور فضل کی ہے۔جیسے ماں کرتی ہے۔وہ سب بچہ کی محبت کا نتیجہ ہے۔اسی طرح خدا (جس نے ماں کو بھی اس لئے پیدا کیا کہ وہ بچہ کی محبت سے خدمت کرے) کی خدمت جس کا نام ربوبیت ہے۔محبت اور رحم کا نتیجہ ہے۔ورنہ حقیقتاً ہمارے تمام فوائد اس نے خود اپنے ذمہ لئے ہوئے ہیں۔اور اس کے رحم اور فضل کے بغیر ہم زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔پس عبد اللہ کا لفظ کامل حریت اور آزادی کو ظاہر کرتا ہے۔اور الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم مالک یوم الدین میں اس کی طرف اشارہ ہے۔اب یہ بات صاف ہو گئی کہ کامل حریت عبودیت الہی میں ہے پس اگر یہ مسئلہ تمام دنیا کو سکھا دیا جاوے اور میں سمجھتا ہوں کہ تمام مذاہب میں جو خدا کا اقرار کرتے ہیں۔یہ مسئلہ یکساں ہے کہ تمام انسانوں کو ہر امر کا فیصلہ خدا سے جاننا چاہیئے تو دنیا میں حقیقی حریت پیدا ہو سکتی ہے۔تم خود عبد اللہ بنو اور پھر اسی مقام عبودیت کی طرف دنیا کو لاؤ۔تب نہ صرف تم آزاد ہو گے بلکہ دنیا کو آزادی کی طرف لانے والے بھی ہو جاؤ گے۔عالم سے عالم اور فلاسفر سے فلاسفر بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ فلاں خیال میں نے خود پیدا کیا ہے۔جب اس کی تحقیقات کی جاوے گی۔تو وہ ارد گرد کے حالات اور اثرات کا نتیجہ ہو گا بہت ہی کم اسے خیال کیا انسان ثابت ہوں گے۔جنہوں نے خدا سے سیکھا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے ہدایت پانے کے لئے اور صحیح علم حاصل کرنے کے لئے سورہ فاتحہ میں بتایا ہے اھدنا الصراط المستقیم اور خدا تعالٰی نے ایسے لوگوں کو کچی آزادی کا عطیہ دینے کے لئے قرآن مجید میں یہ وعدہ کیا ہے۔والذين جاهد و افينا لنهدينهم سبلنا (العنکبوت) پس یاد رکھو کہ کامل آزادی اس سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان کامل طور پر اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دے کہ یا اللہ مجھے غم نہیں کہ کون سے خیالات کس نے ڈالے مدرسہ والوں نے یا محلہ والوں نے یا کسی اور نے۔اس لئے اھدنا الصراط المستقیم تو آپ ہی آزادی کا راستہ دکھا۔ایسا راستہ جو تحقیق کے بعد قائم ہوا ہو۔کیونکہ تو ہی جانتا ہے کہ جو خیالات پیدائش سے لوگوں نے اب