خطبات محمود (جلد 8) — Page 503
503 ہے۔اور اس سے جس پیدا ہو گئی ہے۔کہ ساری جماعت کو حصہ لینا چاہیئے پرسوں میر صاحب کی وفات کی خبر آئی۔میں کام کر رہا تھا۔اس خبر کو پڑھ کر جسم کی یہ حالت تھی کہ وہ کہتا تھا کہ میں کام نہیں کر سکتا۔مگر دوسری طرف فرض تھا اور لیکچر دینا تھا وہ مجبور کرتا تھا کہ لکھو۔اسی طرح نعمت اللہ خان کی شہادت کی خبر آئی۔اور شیخ فضل کریم کی وفات کی خبر وہ بہت ہی مخلص آدمی تھا اور اس سے سلسلہ کو بہت بڑی مالی مدد ملتی تھی۔سو روپیہ کے قریب ماہوار دیتا تھا۔اور بعض دوستوں کی وفات کی خبریں آئیں۔پھر عزیزوں میں بڑے اور چھوٹے بھی ہوتے ہیں مگر ان کی وفات پر صدمہ ہوتا ہے میر محمد اسحاق صاحب کی لڑکی کی وفات ہوئی۔اور اب میر صاحب کی وفات کی خبر آئی۔اس طرح پر آٹھ دس موتیں ہو چکی ہیں۔بھیرہ کا واقعہ ہے۔پھر قادیان کے بلوہ کا مقدمہ ہے جس میں بعض معززین سلسلہ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔مالی صدمات الگ ہیں۔ان دو مہینوں کے اندر ایسے واقعات جمع ہو گئے ہیں کہ ساری عمر میں یاد نہیں کہ دو مختلف حیثیتوں میں آکر جمع ہوئے ہوں۔ایک طرف ایسے واقعات ہیں کہ باوجود صدمہ کے مجبور کرتے ہیں کہ کام کرو اور ایک طرف اس قسم کے ہیں کہ تقاضا کرتے ہیں کہ فراغت ہو پھر باوجود صدمات کے کام کو مقدم کرنا پڑتا ہے۔اس سے اندازہ کر لو کہ کس قدر بوجھ معلوم ہوتا ہو گا۔اور جب غور کرتے ہیں تو صدمہ ہی صدمہ باقی رہ جاتا ہے۔اس کا علاج دعا ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو مصائب دور ہو جاتے ہیں۔اور قوت آجاتی ہے۔میرا تجربہ ہے کہ بعض وقت آثار بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔لیکن خاص طور سے دعائیں کرنے سے اللہ تعالیٰ ان مصائب کو ٹلا دیتا ہے۔اور دوسروں کو پتہ بھی نہیں لگتا۔اس لئے میں تاکید کرتا ہوں کہ دوست خاص طور پر دعائیں کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سفر کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور یہ واقعات خصوصیت سے دعا کی تحریک کرتے ہیں۔پس میں بار بار کہتا ہوں کہ دعائیں کرو کہ اللہ تعالٰی بقیہ سفر خیر و عافیت سے گزار دے۔نہ یہاں کوئی بری خبر آئے اور نہ یہاں سے وہاں پہنچے۔آمین ا حضرت میر ناصر نواب صاحہ الفضل ۶ نومبر ۱۹۲۴ء)