خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 491

491 ہو عجلت ہو مگر اپنی ترتیب کو ہاتھ سے نہ دیں گے۔اس ترتیب کا نتیجہ کیا ہے؟ تمام کام عمدگی سے ہو جاتے ہیں۔اور کسی کو کوئی تکلیف اور گھبراہٹ نہیں ہوتی۔یہی حال حکومت کا ہے۔لبرل اور کنسرویٹو اپنے پولٹیکل ویوز کے لحاظ سے ایک دود سرے کے سخت مخالف ہیں۔لیکن جب ایک پارٹی بر سرکار ہو جاتی ہے۔تو دوسری اس کی اخلاقی مدد کرتی ہے اپنے مخالف فریق کی وجہ سے حکومت کو توڑنے یا ملکی قانون کے احترام کو کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ مل کر کام کرتے ہیں۔ہمارے ملک کا یہ حال نہیں ہے۔میں خود اپنے انتظام میں دیکھتا ہوں کہ جب نیا افسر کسی صیغہ کا آتا ہے اور میں رپورٹ طلب کرتا ہوں تو وہ نئی سکیم بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔اور اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ پہلے نے جو کام کیا تھا وہ درست نہیں تھا۔یہ طریق کامیابی کا نہیں ہے۔بلکہ جہالت ہے۔اس سے قومی کریکٹر قائم نہیں ہوتا۔کسی کام کے جاری رکھنے میں فائدہ ہوتا ہے۔اگر اس میں خرابی بھی ہو تو اس حصہ کی اصلاح ہو سکتی ہے۔لیکن روز نئی سکیم بنانے سے کام نہیں چلتا۔سکیم محض کامیاب نہیں بنایا کرتی۔اس انگریزی قوم کا قومی کریکٹر اس پہلو میں یہ ہے کہ وہ مخالف ہونے کے باوجود بھی اس کام کو جاری رکھیں گے۔مگر جب تک پورا تجربہ نہ ہوئے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس قسم کی عادتیں قومی کریکٹر ہو جاتی ہیں۔اور یہی چیزیں بطور جڑ کے ہوتی ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ ایک نسل قومی کریکٹر نہیں بنا سکتی۔مگر وہ بنیاد رکھ سکتی ہے۔پھر دوسری نسل اس پر ترقی کرے گی اور اسی طرح آخر ایک وقت آجائے گا کہ وہ دوسری قوموں کو اپنے اندر اس قومی کریکٹر کی طاقت سے جذب کرنے لگے گی۔اور اگر اس کی پرواہ نہ کی جائے۔تو رفتہ رفتہ خود دوسروں میں جذب ہو کر اپنی حقیقت اور اصلیت کو کھو دے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی بعض لوگ مرتد ہوئے۔مگر رفتہ رفتہ یہ سلسلہ بند ہو گیا۔کیونکہ قومی کریکٹر پیدا ہو گیا تھا۔جس قدر جھوٹے مدعیان نبوت شروع اسلام میں ہوئے۔اس کے بعد نہیں ہوئے پانچ سو سال تک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے۔جنہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن کریم منسوخ ہو گیا۔جیسے حسن بن صباح وغیرہ ان کے جھوٹے دعوؤں کو بعض نے قبول کر لیا۔اس لئے کہ ابھی قومی کریکٹر کی کمی تھی۔لیکن جب قومی کریکٹر قائم ہو گیا۔تو پھر ایسے مدعی بھی مٹ گئے۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ اخلاص ترقی کر گیا۔بلکہ اس کی وجہ محض قومی کریکٹر ہے۔آج یورپ میں اگر دیکھا جاوے۔تو ۸۰ فیصدی لوگ عیسائیت سے بیزار ہیں۔اور اسے ناپسند