خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 471

471 پھر میں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ جب وہ انسان جس کے ہاتھ پر بیعت کی ہو سامنے نہ ہو تو کئی قسم کے وسوسے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اس لئے میں یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں خصوصیت سے محبت کا رنگ دکھائیں۔تمام وعظ و نصائح عمل کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔نہ کہ صرف سن چھوڑنے کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ بچے ہو کر جھوٹے بنو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جھوٹ بولو بلکہ یہ ہے کہ جو حقوق سچے ہونے کی حالت میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ان کے لئے اگر تم سے جھوٹوں جیسا سلوک کیا جائے۔تو اسے بھی قبول کرو۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ سب لوگ آپس میں محبت اور سلوک ہے رہیں۔یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھو۔کوئی فوج لڑ نہیں سکتی۔جس کے آگے دشمن ہو اور پیچھے بغاوت۔اگر تم لوگ میرے اس سفر کو کامیاب بنانا چاہتے ہو۔اور جس کثرت سے اس سفر کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اس کے مطابق اسے اہم سمجھتے ہو۔تو یہ بھی عہد کرو کہ کوئی ایسی بات نہ کریں گے۔جو مناسب نہ ہو۔دیکھو ایک ماں جب سنتی ہے کہ میرا فلاں بچہ بیمار ہے۔تو خواہ وہ دنیا کے دوسرے سرے پر ہو۔تو بھی بے چین ہو جاتی ہے اور کوئی کام نہیں کر سکتی۔اسی طرح اگر مجھے ایک یا دو کے متعلق ہی فتنہ و شرارت کی خبر پہنچے گی یا بری بات معلوم ہو گی۔تو اس کا یہ اثر ہو گا۔کہ سارا سفر بے چینی میں گزرے گا۔اسلام تو کہتا ہے۔کبھی فساد نہ کرو مگر میں کہتا ہوں۔کم از کم چار ماہ کے لئے تو اقرار کرو کہ کوئی فتنہ و فساد نہ پیدا ہونے دیں گے۔اور جب اتنے عرصہ کے لئے اقرار کر کے اس پر قائم رہو گے۔تو ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ تمہیں اس اقرار کو نباہنے کی توفیق دے گا۔پس اگر ایک کو کسی سے نقصان بھی پہنچے۔گلہ شکوہ بھی پیدا ہو۔تو بھی میں امید کرتا ہوں کہ دوسرا اخلاص کا نمونہ دکھائے گا۔اور فساد نہیں پیدا ہونے دے گا۔پھر جو انتظام کیا گیا ہے۔اس کے ماتحت اطاعت کا پورا نمونہ دکھاؤ۔جن کو انتظام کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ان کے فیصلے خواہ تمہاری رائے کے موافق ہوں یا مخالف ان کو منظور کرو۔اسی طرح میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تبلیغ کی طرف خاص توجہ رکھو۔ایک طرف زور دینے کے یہ معنی نہیں کہ دوسری طرف سستی پیدا ہو جائے۔کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ چاروں طرف پورے زور سے کام کیا جائے۔ادھر ہم مغرب میں جاتے ہیں۔ادھر تم مشرق میں پورا زور لگاؤ تاکہ ایک ہی وقت میں مغرب بھی گرایا جائے۔اور مشرق بھی۔